خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 447
خطبات مسرور جلد 17 447 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 سے اولاد مراد ہے یا ان کے قریبی داماد و غیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔بہر حال حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں لیکن اگر آپ کے خاندان میں سے ہی کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو چونکہ لوگوں کو اس خاندان کی اطاعت کی عادت ہے اس لیے وہ خوشی سے اس کی اطاعت قبول کر لیں گے۔جیسے ایک بادشاہ کی بات ماننے کے لوگ عادی ہو چکے ہوتے ہیں جب۔وفات پا جاتا ہے تو اس کا بیٹا جانشین بنتا ہے تو اس کی اطاعت بھی شوق سے کرنے لگ جاتے ہیں۔مگر دوسرا فریق جو تھا اس نے سوچا کہ اس کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل میں سے ہونے کی شرط ضروری نہیں ہے۔مقصد تو یہ ہے کہ رسول کریم کا ایک جانشین ہو۔پس جو سب سے زیادہ اس کا اہل ہو اس کے سپرد یہ کام ہونا چاہیے۔اس دوسرے گروہ کے پھر آگے دو حصے ہو گئے اور گو وہ دونوں اس بات پر متحد تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی جانشین ہونا چاہیے مگر ان میں سے اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ رسول کریم کا جانشین کن لوگوں میں سے ہو۔ایک گروہ کا خیال تھا کہ جو لوگ سب سے زیادہ عرصے تک آپ کے زیر تعلیم رہے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں یعنی مہاجر اور ان میں سے بھی قریش جن کی بات ماننے کے لیے عرب تیار ہو سکتے ہیں اور بعض نے یہ خیال کیا کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مدینے میں ہوئی ہے اور مدینے میں انصار کازور ہے اس لیے وہی اس کام کو اچھی طرح چلا سکتے ہیں۔بہر حال اس پر انصار اور مہاجرین میں اختلاف بھی ہوا۔غرض اب انصار اور مہاجرین میں اختلاف ہو گیا۔انصار کا یہ خیال تھا کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل زندگی جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے اندر گزاری ہے۔انصار یہ کہتے تھے کہ مدینے میں گزاری ہے اور مکے میں کوئی نظام نہیں تھا اس لیے نظام حکومت ہم ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور خلافت کے متعلق ہمارا ہی حق ہے کسی اور کا حق نہیں۔دوسری دلیل وہ یہ دیتے تھے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور طبعاً ہماری بات کا ہی لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے مہاجرین کا اثر نہیں ہو سکتا۔پس رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہم میں سے ہو نا چاہیے مہاجرین میں سے نہیں۔اس کے مقابلے میں مہاجرین یہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی لمبی صحبت ہم نے اٹھائی ہے اتنی لمبی صحبت انصار نے نہیں اٹھائی، اتنا عرصہ ان کے ساتھ نہیں رہے اس لیے دین کو سمجھنے کی جو قابلیت ہمارے اندر ہے وہ انصار کے اندر نہیں ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ اس اختلاف پر ابھی دوسرے لوگ غور ہی کر رہے تھے اور وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے کہ اس آخری گروہ نے جو انصار کے حق میں تھا بنی ساعدہ کے ایک برآمدہ میں جمع ہو کر اس بارہ میں مشورہ شروع کر دیا اور سعد بن عبادہ جو خزرج کے سردار تھے اور نقباء میں سے تھے ان کے بارے میں طبائع کا اس طرف رجحان ہو گیا کہ انہیں خلیفہ مقرر کیا جائے۔چنانچہ انصار نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک ہمارا ہے ، زمینیں ہماری ہیں ، جائیدادیں ہماری ہیں اور اسلام کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو۔اس بات پر فیصلہ کیا کہ اس منصب کے لیے سعد بن عبادہؓ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں۔یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ بعض نے کہا کہ اگر مہاجرین اس کا انکار کریں گے تو کیا ہو گا؟ سوال اٹھا۔اس پر کسی نے کہا کہ پھر ہم کہیں گے کہ مِنَّا آمِیرٌ وَمِنْكُمْ آمِیر۔یعنی ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے۔سعد جو بہت دانا آدمی تھے