خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد 17 446 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 ایسا موقع آیا تھا لیکن اس کے شر سے اللہ تعالیٰ نے بچایا اور تم میں ابو بکر جیسا کوئی نہیں کہ جس کے پاس اونٹوں پر سوار ہو کر لوگ آئیں۔یعنی کہ ایسا عالم با عمل اور مخلص اور تقوی کے معیار پر پہنچا ہوا اور کوئی شخص نہیں تھا۔پھر آگے باقی باتوں کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو اس کی بیعت نہ کی جائے یعنی کہ جو بیعت ہوئی تھی وہ بڑے مشورے سے ہوئی تھی اور یہ بھی یاد رکھو کہ جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو اس کی بیعت نہ کی جائے اور نہ اس شخص کی جس نے اس کی بیعت کی۔اس لیے کہ کہیں وہ اپنے آپ کو مروانہ ڈالے۔پھر حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا اور اصل میں ہمار اواقعہ یوں ہوا تھا کہ جب اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو انصار ہمارے مخالف ہو گئے اور وہ سب ثقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہو گئے اور علی اور زبیر اور جو ان دونوں کے ساتھ تھے ، ہمارے مخالف تھے ، اور مہاجر اکٹھے ہو کر ابو بکر کے پاس آئے۔میں نے ابو بکر سے کہا کہ ابو بکر ! آؤ ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس چلیں۔ہم انہیں کا قصہ بیان کرتے ہوئے چلے۔وہی باتیں کرتے ہوئے چلے جارہے تھے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک مرد ہمیں ملے اور پہلی روایت جو میں نے بیان کی تھی اس کے مطابق وہ جو دو نیک مرد تھے ان میں سے ایک حضرت معن بن عدی تھے۔بہر حال آپ فرماتے ہیں اور جس مشورے پر وہ لوگ یعنی انصار جو تھے بالا تفاق آمادہ تھے ان دونوں نے جو ہمیں رستہ میں ملے ان کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟ ہم نے کہا کہ ہم ان انصاری بھائیوں کو ملنا چاہتے ہیں۔تو ان دونوں نے جو راستے میں ملے تھے یہ کہا جن میں حضرت معن بن عدی بھی تھے کہ ہر گز نہ وہاں جانا۔تمہیں یہی مناسب ہے کہ ان کے پاس نہ جاؤ۔تم نے جو مشورہ کرنا ہے وہ خود ہی کر لو۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے اور یہ کہہ کر ہم چل پڑے اور بنو ساعدہ کے شامیانے میں ان کے پاس پہنچے۔(صحيح البخارى كتاب الحدود باب رجم الحبلى من الزنا اذا احصنت حدیث نمبر 6830) وہاں انصار کی حضرت ابو بکر" کی اور حضرت عمرؓ کی ایک لمبی بحث ہوئی اور جو گفتگو تھی وہ خلافت کے انتخاب کے بارے میں تھی اور پھر آگے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے۔اس ثقیفہ بنو ساعدہ والے واقعہ کی کچھ حد تک تفصیل جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی ہے وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔یہاں انصار کی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ کے تین گروہ بن گئے تھے۔ایک گروہ نے یہ خیال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہیے جو نظام اسلامی کو قائم کرے مگر چونکہ نبی کے منشا کو اس کے اہل و عیال ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل میں سے ہی کوئی شخص مقرر ہونا چاہیے۔ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ آپ کی اولاد میں سے کوئی شخص ہونا چاہیے۔کسی اور خاندان میں سے کوئی اور شخص نہیں ہونا چاہیے۔اس گروہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو گیا تو لوگ اس کی باتیں مانیں گے نہیں اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا۔خاندان