خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 17 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 کریں۔اس کی وضاحت بھی نہ ہو سکے۔پھر انہوں نے حضرت عمر کو مشورہ دیا کہ آپ اس وقت تک انتظار کریں کہ مدینے میں پہنچیں۔حج کے دن تھے۔مدینے پہنچیں گے تو کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔وہاں کیا ہو گا کہ سمجھ دار اور شریف لوگوں کو الگ تھلگ لے کر جو آپ نے کہنا ہو انہیں اطمینان سے کہیں۔اور کہا کہ میں نے کہا کہ اہل علم آپ کی بات سمجھیں گے اور مناسب محل پر اسے چسپاں بھی کریں گے۔اپنی اپنی تشریحیں نہیں کرنے لگ جائیں گے۔پھر حضرت عمر نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے۔اللہ کی قسم ! ان شاء اللہ پہلی بار جو مدینے میں خطبہ کے لیے کھڑا ہوں گا تو پھر میں وہاں جاتے ہی یہ بات بیان کروں گا۔ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم مدینہ ذوالحجہ کے اخیر میں پہنچے اور جب جمعے کا دن ہو ا تو جو نہی سورج ڈھلا اور جمعے کا وقت ہوا تو ہم جلدی مسجد میں آگئے۔وہاں پہنچ کر میں نے سعید بن زید کو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے پایا تو میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔میر ا گھٹنا ان کے گھٹنے سے لگ رہا تھا۔اب یہ پوری تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے۔جب میں نے انہیں سامنے سے آتے دیکھا تو میں نے سعید بن زید سے کہا کہ آج وہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے جب سے کہ وہ خلیفہ ہوئے نہیں کہی۔انہوں نے میری بات کو عجیب سمجھا۔ان کے پاس جو صحابی بیٹھا تھا انہوں نے عجیب سمجھا۔کہنے لگے امید نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں کہی۔حضرت عمر منبر پر بیٹھ گئے۔جب اذان دینے والا خاموش ہو گیا تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر کہا کہ اما بعد میں تم سے ایک ایسی بات کہنے لگا ہوں کہ میرے لیے مقرر تھا کہ میں وہ کہوں۔میں نہیں جانتا کہ شاید یہ بات میری موت کے قریب کی ہو۔اس لیے جس نے اس بات کو سمجھا اور اچھی طرح یا در کھا تو جہاں بھی اس کی اونٹنی اس کو پہنچا دے وہ اس کو بیان کرے یعنی ان باتوں کو جہاں تک تم پہنچاسکتے ہو دوسروں تک صحیح رنگ میں ان کو پہنچانا اور جس کو یہ خدشہ ہو کہ اس نے اس کو نہیں سمجھا تو میں کسی کے لیے جائز نہیں رکھتا کہ میرے متعلق جھوٹ کہے۔غلط بات نہ پہنچانا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپ پر احکام شریعت نازل کیے۔پھر بعض احکام کا بھی ذکر کیا ایک لمبی تفصیل ہے۔یہ حدیث ہے اس کو میں چھوڑتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ سنو ! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ بڑھا چڑھا کر میری تعریف نہ کرو جیسا کہ عیسی بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میرے متعلق یہ کہا کرو کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے۔اس بات کو بیان کیا کہ حضرت ابو بکر کو تو خلافت یونہی مل گئی۔آپؐ نے فرمایا کہ اس شخص نے ابو بکر کے متعلق بھی کہا ہے اور پھر میرے متعلق بھی کہا ہے کہ اللہ کی قسم ! اگر عمر مر گیا تو میں فلاں کی بیعت کروں گا۔آپ نے فرمایا اس لیے کوئی ں دھوکے میں رہ کر یہ نہ کہے۔اس بارے میں وضاحت کر دوں کہ پھر آپ بات کو پہلے حضرت ابو بکر کی طرف لے گئے اور آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص دھوکے میں رہ کر یہ نہ کہے کہ ابو بکر کی بیعت یو نہی افرا تفری میں غلطی سے ہو گئی تھی اور وہ سر انجام پاگئی اور اس طرح آپ خلیفہ بن گئے۔سنو! یہ درست ہے کہ وہ بیعت اسی طرح ہوئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس افراتفری کی بیعت کے شر سے بچائے رکھا۔ٹھیک ہے وہ افرا تفری میں ہی ہوئی تھی۔رض