خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد 17 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 حضرت معن حضرت عاصم بن عدی کے بھائی تھے۔اس حوالے سے پہلے ان کا ذکر ہو چکا ہے۔حضرت معن شستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔حضرت معن اسلام قبول کرنے سے پہلے عربی میں لکھنا جانتے تھے، کتابت جانتے تھے۔جبکہ اس وقت عرب میں کتابت بہت کم تھی۔حضرت معن غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔حضرت زید بن خطاب نے مکے سے مدینے ہجرت کی تو اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معن بن عدی اور حضرت زید بن خطاب کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 244-245 معن بن عدى دار الاحياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ ہمارے بھائی انصار کے پاس ہمارے ساتھ چلیں۔چنانچہ ہم گئے اور ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔میں نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ حضرت غویم بن ساعدہ اور حضرت معن بن عدی ہی تھے۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب شهود الملائكة بدراً حديث 4021) راوی نے آگے جو لکھا ہے، حضرت عمرؓ کی جو روایت ابھی بیان ہوئی ہے اس کی مزید تفصیلات بخاری کی ایک اور روایت میں بھی درج ہیں جس کا کچھ حصہ میں پیش کر تا ہوں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں مہاجرین میں سے کئی افراد کو قرآن پڑھایا کرتا تھا۔ان میں سے عبد الرحمن بن عوف بھی تھے۔ایک بار میں ان کے اس گھر میں تھا جو منی میں ہے اور وہ عمر بن خطاب کے پاس گئے ہوئے تھے۔یہ واقعہ اس آخری حج کا ہے جو حضرت عمرؓ نے کیا تھا۔جب عبد الرحمن بن عوف میرے پاس واپس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کاش تم بھی اس شخص کو دیکھتے جو آج امیر المومنین کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین ! کیا آپ کو فلاں حکم کے متعلق علم ہوا کہ جو کہتا ہے کہ اگر عمر گئے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا یعنی پہلے ہی بتا رہا ہے حضرت عمرؓ کے خلافت کے وقت میں کہ آپ کے بعد پھر میں فلاں کی بیعت کروں گا اور پھر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ابو بکر کی بیعت تو یوں ہی افرا تفری میں ہو گئی تھی۔پھر یہ ہی نہیں کہ انگلی کا اظہار کر دیا بلکہ یہ بھی اظہار کر دیا کہ حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نعوذ باللہ افرا تفری میں غلطی سے ہو گئی تھی اور اس طرح ان کی خلافت کا وہ مقام ان کو ملا۔یہ سن کر حضرت عمر رنجیدہ ہوئے۔پھر انہوں نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو میں آج شام لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور انہیں ان لوگوں سے چوکس کروں گاجو ان کے معاملات کو زبر دستی اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ امیر المومنین! ایسا نہ کریں کیونکہ حج میں عامی لوگ اور او باش بھی اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں تو جب آپ لوگوں میں کھڑے ہوں گے تو یہی لوگ زبر دستی آپ کے قریب ہو جائیں گے ، اکٹھے ہو جائیں گے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ کھڑے ہو کر ایسی بات نہ کہہ دیں کہ ہر بات اڑانے والا آپ کے متعلق کچھ اور کا اور نہ اڑا دے۔اپنی طرف سے باتیں لگا کے کچھ اور ہی مشہور نہ کر دے اور لوگ اسے نہ سمجھیں اور نہ ہی مناسب محل پر اسے چسپاں کریں۔سمجھ بھی نہ آئے اور پھر صحیح موقعے پر اس کو چسپاں بھی نہ