خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد 17 443 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 علامہ ابن عبد البر، علامہ ابن اثیر جزری وغیرہ نے ان کا نام عمر و بیان کیا ہے جبکہ ابن ہشام، موسیٰ بن عقبہ ، ابو معشر محمد بن عمر واقدی و غیرہ نے ان کا نام عمیر بیان کیا ہے۔علامہ بدرالدین عینی اور علامہ ابن حجر عسقلانی یہ دونوں بھی بخاری کے شارح بھی ہیں۔ان کی تشریح لکھی ہے ان کے مطابق عمرو بن عوف اور عمیر بن عوف دونوں ہی ایک شخص کے نام ہیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد عمير بن عوف جلد 3 صفحه 310 ، جلد 4 صفحه 269۔مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحه 274 "عمرو بن عوف الأنصاري“ دار الكتب العلميه بيروت لبنان (2002ء) (عمدة القارى الجزء 15 صفحه 121 كتاب الجزية دار احياء التراث بیروت لبنان 2003ء) (الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحه 552-553 عمرو بن عوف دار الكتب العلميه بيروت لبنان (2005ء) (اسد الغابه جلد 4 صفحه 246 عمرو بن عوف مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (ابن هشام صفحه 463 ومن بني عامر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) امام بخاری کے مطابق حضرت عمرو بن عوف انصاری قریش کے قبیلہ بنو عامر بن لوئی کے حلیف تھے جبکہ ابن ہشام اور ابنِ سعد نے انہیں قریش کے خاندان بنو عامر بن لوئی سے قرار دیا ہے۔علامہ بدرالدین عینی جو بخاری کے شارح ہیں انہوں نے اس کی تطبیق کی ہے۔اس کو (دونوں مختلف بیانوں کو اس طرح اس کے ساتھ آپس میں ملایا ہے کہ کہتے ہیں کہ حقیقت میں حضرت عمرو بن عوف انصار کے قبیلہ اوس یا خزرج میں سے تھے اور انہوں نے کے جاکر قیام کیا تھا اور وہاں بعض لوگوں کے حلیف ہوئے تھے اور اس اعتبار سے وہ انصاری بھی ہوئے اور مہاجر بھی ہوئے۔(صحيح بخارى كتاب الجزيه بَاب الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الدُّمَةِ وَالْحَرْبِ حديث نمبر 3158) (عمدۃ القارى الجزء 15 صفحه 121 كتاب الجزية دار احياء التراث بيروت - لبنان 2003ء) (ابن هشام صفحه 463 ومن بني عامر مطبوعة دار الكتب بيروت 2001ء ) ( الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 310 "عمير بن عوف “ مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عمرو بن عوف قدیمی اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے۔" الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 254 "عمرو بن عوف مطبوعه دار الفکر بيروت 2012ء) حضرت عمرو بن عوف نے مکے سے ہجرت مدینہ کے وقت قبا میں حضرت کلثوم بن الہد غم کے ہاں قیام کیا۔حضرت عمرو بن عوف غزوہ بدر ، غزوہ احد، غزوہ خندق اور اس کے علاوہ دیگر تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔الطبقات الكبرى لابن سعد عمير بن عوف جزء 3 صفحه 217 دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) (الاصابه جلد 3 صفحه 46 سعد بن خيثمه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت عمرو بن عوف کی وفات حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی اور ان کی نماز جنازہ حضرت عمرؓ نے پڑھائی۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحه 553 " عمرو بن عوف دار الكتب العلميه بیروت لبنان 2005ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت معن بن عدی ہے۔حضرت معن انصار کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔(ابن ھشام صفحه 209 اسماء من شهد العقبة مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء)