خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 29
خطبات مسرور جلد 17 29 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2019ء بمطابق 18, صلح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں حضرت عامر بن فهيرة کا ذکر کروں گا اور ان کا کافی لمبا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔اسلام کی تاریخ کے بعض اہم واقعات میں بھی ان کا کردار ہے۔انہیں ان کا حصہ بنے کی توفیق ملی۔اور وہ واقعات ایسے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ان کی کنیت ابو عمرو تھی اور قبیلہ آزد سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اخیافی بھائی طفیل بن عبد اللہ بن سخبرة کے غلام تھے۔یہ بھی سیاہ فام غلام تھے۔اخیافی بھائی وہ ہوتے ہیں جو ماں کی طرف سے بھائی ہوں۔باپ مختلف تھے۔آپ اسلام لانے والے سابقین میں شامل تھے۔پہلے اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں جانے سے قبل اسلام لاچکے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔اسلام لانے کے بعد کافروں کی طرف سے آپ کو بڑی تکالیف پہنچائی گئیں۔پھر حضرت ابو بکر نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ہجرت مدینہ کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر غار ثور میں تھے تو آپ حضرت ابو بکر کی بکریاں چراتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے انہیں حکم دیا تھا کہ بکریاں ہمارے پاس لے آیا کرنا۔پس آپ سارادن بکریاں چراتے تھے اور شام کو حضرت ابو بکر کی بکریاں غار ثور کے قریب لے جاتے تھے۔تو آپ دونوں اصحاب خود بکریوں کا دودھ دوہ لیتے تھے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر۔جب عبداللہ بن ابی بکران دونوں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے پاس جاتے تھے تو حضرت عامر بن فہیرۃ ان کے پیچھے پیچھے جاتے تھے تاکہ ان کے قدموں کے نشان مٹ جائیں۔پتہ نہ لگے کہ حضرت ابو بکر کے بیٹے کہاں جارہے ہیں، کفار کو کسی قسم کا شک نہ پڑے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر غار ثور سے نکل کر مدینہ کو روانہ ہوئے تو اس وقت حضرت عامر بن فہیرۃ نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔حضرت ابو بکر نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔اس وقت ان کو راستہ دکھانے والا بنو الدنیل کا ایک مشرک شخص تھا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 134 عامر بن فهيرة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد حضرت عامر بن فہیر ۃ اور حضرت حارث بن اوس بن مُعاذ کے