خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد 17 442 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 خوبصورت بناتے ہیں اور آج کل خاص طور پر پاکستان وغیرہ میں ان کی آبادی کی طرف بھی بعض لوگوں نے توجہ کی ہے لیکن یہ تقوی سے خالی مسجد میں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسجد ضرار کو گرانے کا جو حکم فرمایا تھا اس کے آگے آیات میں یہ بھی بڑا واضح فرمایا تھا کہ مسجد وہی حقیقی ہے جس کی بنیاد تقوی پر ہو لیکن ان غیر احمدی علماء نے اپنی دانست میں تقوی صرف اسی بات کو سمجھ لیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مسجدوں میں کھڑے ہو کے ہرزہ سرائی کی جائے۔گندی اور غلیظ زبان آپ کے متعلق استعمال کی جائے، جماعت کو گالیاں دی جائیں اور پھر صرف یہی نہیں ہے بلکہ آئے دن یہ واقعات ہوتے ہیں کہ ان مسجدوں کی امامت اور فرقوں کے اختلاف کی وجہ سے آپس میں بھی ان کی گالم گلوچ رہتی ہے۔اب تو اکثر واقعات وائرل ہوتے رہتے ہیں کہ مسجدوں میں دنگا فساد ہو رہا ہے یا ایک دوسرے کو گالیاں دی جارہی ہیں۔پس یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان میں تقوی کی کمی ہے اور ان کی مساجد میں مسجد کا حقیقی جو حق ہے وہ ادا نہیں ہو رہا اور ان کے عمل جو ہیں ان سے ہم احمدیوں کو بھی سبق لینا چاہیے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری مسجدیں تقوی کی بنیاد پر ہوں۔پس ہم تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسجدوں کو آباد کرنے کے لیے آئیں۔پس یہی اصل حقیقت ہے۔اگر یہ قائم رہے گی اور جب تک قائم رہے گی اس وقت تک ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بھی وارث بنتے رہیں گے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ۔" لِمَنْ حَارَبَ الله " اس کی تشریح فرماتے ہیں کہ " یہ ابو عامر کی طرف اشارہ ہے جو عیسائی تھا۔اس کے مکروں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ رسول کریم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔پھر کچھ مسلمان ادھر بھی آجایا کریں اور اس طرح مسلمانوں کی جماعت کو توڑ لوں گا۔اس ابو عامر نے اپنا ایک رویا بھی مشتہر کر رکھا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم وَحِيْدًا طَرِيْدًا شَرِيْدًا۔" کہ دھتکارے ہوئے (نعوذ باللہ ) تن تنہ فوت ہوں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " اس کی یہ بات سن کر " فرمایا کہ خواب سچا ہے۔یہ ٹھیک کہتا ہے۔اصل میں بات یہ ہے کہ اس لیے سچا ہے کہ " اس نے اپنی حالت دیکھی ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ نے نام نہیں لیا اور اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ نام نہ لینے میں اصل میں " یہ بلاغت ہے کہ آئندہ بھی اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کا انجام بھی یہی ہو گا۔" (حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 10 3 زیر آیت وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا صِرَارًا ) اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی ایسے ہی دشمنوں کے انجام ہوتے چلے آرہے ہیں۔دوسرے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عمرو بن عوف ہے۔حضرت عمرو کا نام عمیر بھی ملتا ہے اور والد کا نام عوف تھا۔حضرت عمرو کی کنیت ابو عمرو تھی۔ان کی ولادت مکے میں ہوئی اور ابن سعد کے مطابق یہ یمن سے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحه 553-552 عمرو بن عوف دار الكتب العلميه بيروت لبنان (2005ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد عمرو بن عوف جزء3 صفحه 254 دار الفكر بیروت لبنان 2012ء) یعنی یمن کے رہنے والے تھے۔مؤرخین نے اور سیرت نگاروں نے اور محد ثین نے ان صحابی کے نام کے بارے میں مختلف رائے دی ہیں اور ان کے بارے میں بہت زیادہ اشتباہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ امام بخاری، ابن اسحاق، ابن سعد،