خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد 17 441 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 ضمن میں بیان کیا تھا۔بہر حال اس وقت اس مسجد کے بنانے والے وہاں موجود تھے لیکن آگ لگنے کے بعد وہ ادھر اُدھر بھاگ گئے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسجد والی جگہ عاصم بن عدی کو دینی چاہی کہ وہ اس جگہ کو اپنا گھر بنالیں (جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ) لیکن عاصم بن عدی نے کہا کہ میں جگہ نہیں لوں گا۔اس لیے معذرت کی کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو نازل کرنا تھا کر دیا یعنی کہ یہ تو ایسی جگہ بنی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کی عمارت وہاں پسند نہیں آئی تھی اس لیے میں نہیں چاہتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر ثابت بن اقرم کو دے دیا کیونکہ ان کے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ہاں عاصم بن عدی نے کہا کہ میرے پاس گھر بھی ہے اور مجھے انقباض بھی ہو رہا ہے۔معذرت چاہتا ہوں۔بہتر یہ ہے کہ اسے ثابت بن اقرم کو دے دیں اور وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس گھر نہیں۔وہ یہاں اپنا گھر بنا لیں گے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسجد، مسجد ضرار والی وہ جگہ جو تھی ثابت بن اقرم کو دے دی۔ابن اسحاق کے مطابق مسجد ضرار بنانے والے منافقین کے نام یہ ہیں۔خذام بن خالد، معتب بن قشیر ، ابو حبيبة بن أزعر ، عباد بن حنيف ، جاریہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے مُجمع بن جاریہ اور زید بن جاریه، نفیل بن حرث ، تخرج بن عثمان ، ودیعه - تو بہر حال یہ لوگ تھے جو ابو عامر رہب جس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق رکھا تھا اس کے ساتھ یہ سب ملے ہوئے تھے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 5 صفحه 470 تا 472 غزوہ تبوك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1993ء) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية الجزء الرابع صفحه 97-98 ثم غزوة تبوك ـ دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک دفعہ دہلی کے سفر پر جب گئے تو دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا بڑی خوبصورت مسجد ہے لیکن فرمایا کہ " مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔" فرمایا کہ "ور نہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔" اس زمانے میں بہت ساری مساجد تھیں ، ویران تھیں۔"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔" آپ نے فرمایا " کھجور کی چھٹڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی " شروع میں " اور بارش کے وقت (مسجد کی چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔" فرمایا کہ "مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرررساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے۔" آپ نے فرمایا کہ مسجدوں کے واسطے یہ حکم ہے " کہ تقوی کے واسطے بنائی جائیں۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 170) پس یہ ہے مسجد کی اصل حقیقت۔آج کل مسلمانوں کے ایک طبقے کا مسجدوں کی آبادی کی طرف بھی رجحان ہوا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ رجحان بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد ہوا ہے۔اگر کچھ موقع پیدا ہوا، جرآت پیدا ہوئی یا عبادت کی طرف توجہ ہوئی یا ظاہری عبادت کی طرف توجہ ہوئی تو یہ بھی آپ کے دعوے کے بعد ہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بڑی توجہ سے مسجدیں بناتے ہیں اور مسجد میں بھی بڑی