خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 440

خطبات مسرور جلد 17 440 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2019 اس طرح بیان ہوئی ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ بنو عمرو بن عوف نے مسجد قبا بنائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور اس میں نماز پڑھیں۔جب بنو غنم بن عوف کے کچھ لوگوں نے اس مسجد کو دیکھاتو انہوں نے کہا کہ ہم بھی ایک مسجد بناتے ہیں جیسے بنو عمرو نے بنائی ہے تو ان کو ابو عمرو فاسق جو بڑا مخالف تھا۔یہ فتنہ پیدا کرنے والا تھا۔اس نے کہا کہ تم بھی ایک مسجد بناؤ اور حتی الوسع اس میں اسلحہ بھی جمع کرو۔اس کی نیت یہ تھی کہ اس کو فتنے کا مرکز بنایا جائے۔کہنے لگا کہ میں روم کے بادشاہ قیصر کے پاس جارہا ہوں اور وہاں سے ایک رومی لشکر لاؤں گا۔پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال دوں گا۔جب مسجد مکمل ہو گئی تو ان کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم نے یہ مسجد بیماروں اور معذوروں کی آسانی کے لیے بنائی ہے کہ وہ زیادہ دور نماز پڑھنے نہیں جاسکتے اور ساتھ ہی آپ سے یہ بھی درخواست کی کہ اس مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت سفر کی تیاری میں مصروف ہوں۔سفر پہ جارہے تھے ، ان شاء اللہ جب ہم واپس آئیں گے تو میں نماز پڑھاؤں گا۔یہ غزوہ تبوک کا سفر تھا۔غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے سے تھوڑے فاصلے پر ایک جگہ ذی آوان، اس کے اور مدینہ کے درمیان ایک گھنٹے کا فاصلہ ہے وہاں قیام فرمایا تو آپ کو مسجد ضرار کے بارے میں یہ وحی نازل ہوئی جس کا قرآن شریف میں سورہ تو بہ میں ذکر ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا صِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكُذِبُونَ (توبه: 107) اور وہ لوگ جنہوں نے تکلیف پہنچانے اور کفر پھیلانے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایسے شخص کو کمین گاہ مہیا کرنے کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے ہی لڑائی کر رہا ہے ایک مسجد بنائی ہے ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد مالک بن دخشم اور معن بن عدی کو بلایا اور ان کو مسجد ضرار گرانے کا حکم دیا۔کچھ روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عاصم بن عدی اور عامر بن سکن اور وحشی، جس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اور سوید بن عباس کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقصد کے لیے بھیجا۔شرح زرقانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو افراد کو بھجوایا ہو پھر مزید چار افراد ان کی اعانت کے لیے بھجوائے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد ضرار کی طرف جانے کا ارشاد فرمایا کہ اسے گرادیں اور آگ لگا دیں۔یہ کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ تیزی سے قبیلہ بنو سالم پہنچے جو کہ حضرت مالک بن دخشم کا قبیلہ تھا۔حضرت مالک بن دخشم نے حضرت معن سے کہا کہ مجھے کچھ مہلت دو یہاں تک کہ میں گھر سے آگ لے آؤں۔چنانچہ وہ گھر سے کھجور کی سوکھی ٹہنی کو آگ لگا کر لے آئے۔پھر وہ مغرب اور عشاء کے در میان مسجد ضرار کے پاس پہنچے اور وہاں جا کر اسے آگ لگادی اور اس کو زمین بوس کر دیا۔یہ کچھ حصہ میں نے پہلے حضرت مالک بن دخشم کے