خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 439

خطبات مسرور جلد 17 439 خطبه جمعه فرموده مورخہ 23 اگست 2019 ہیں اور لشکر قریش کی آمد آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام مضبوط رہے آپ نے ابولبابہ بن منذر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھجوادیا اور عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں۔مگر انتظامی کام ابولبابہ سر انجام دیں۔مدینہ کی بالائی آبادی یعنی قباء کے لیے آپ نے عاصم بن عدی کو الگ امیر مقرر فرمایا۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 354) حضرت عاصم غزوہ احد اور غزوہ خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت عاصم نے 145 ہجری میں حضرت معاویہ کے دور حکومت میں مدینے میں وفات پائی۔اس وقت ان کی عمر 115 سال تھی۔بعض کے نزدیک انہوں نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔جب حضرت عاصم کی وفات کا وقت آیا تو ان کے گھر والوں نے رونا شروع کیا اس پر انہوں نے کہا کہ مجھ پر نہ روؤ کیونکہ میں نے تو اپنی عمر گزار لی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 355 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 3 صفحه 464 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) اور بہت لمبی عمر گزار لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کو غزوہ تبوک کی تیاری کے لیے حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کو اللہ کی راہ میں مال اور سواری مہیا کرنے کی تحریک بھی فرمائی اور اس پر مختلف لوگوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قربانی پیش کی۔اسی موقعے پر حضرت ابو بکر اپنے گھر کا سارا مال لے آئے جو کہ چار ہزار درہم تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے کہ نہیں ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر اپنے گھر کا آدھا مال لے کر آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ نصف چھوڑ کے آیا ہوں۔اس موقعے پر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ایک سو اوقیہ دیے۔ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بن عفان اور عبد الرحمن بن عوف زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔اس موقعے پر عورتوں نے بھی اپنے زیورات پیش کیے۔اسی موقعے پر حضرت عاصم بن عدی، جن کا ذکر ہو رہا ہے انہوں نے ستر وسق کھجوریں پیش کیں۔ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع تقریباً اڑھائی سیر کا ہوتا ہے، یا اڑھائی کلو کا تو اس طرح کھجوروں کا کل وزن 262 من بنتا ہے۔(السيرة الحلبيه جلد 3 صفحه 183-184 غزوہ تبوك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) ( لغات الحدیث جلد 1 صفحہ 82" اوقیہ " جلد 4 صفحہ 487 "وسق " - جلد 2 صفحہ 648 " صاع " ناشر نعمانی کتب خانہ لاہور 2005ء) ایک من تقریباً چالیس سیر کا پاکستان کا وزن ہے یا انتالیس کلو کا یا اڑ تیس کلو کا ہوتا ہے۔بہر حال حضرت عاصم نے بھی اس موقعے پر جو ان کے پاس کھجوریں تھیں وہ پیش کیں اور بڑی مقدار میں پیش کیں۔حضرت عاصم بن عدی ان صحابہ میں سے تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار گرانے کا حکم دیا تھا۔اس واقعہ کی تفصیل