خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 438
خطبات مسرور جلد 17 438 34 خطبه جمعه فرموده مورخہ 23 اگست 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 / اگست 2019ء بمطابق 123 ظہور 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ سرے، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے ذکر میں آج میں جن صحابی کا ذکر کروں گا ان کا نام ہے حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔حضرت عاصم کے والد کا نام عدی تھا۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عجلان بن حارثہ سے تھا جو قبیلہ بنو زید بن مالک کا حلیف تھا۔حضرت عاصم بنو عجلان کے سردار اور حضرت معن بن عدی کے بھائی تھے۔حضرت عاصم کی کنیت ابو بکر بیان کی جاتی ہے جبکہ بعض کے نزدیک ان کی کنیت ابو عبد اللہ ، ابو عمر اور ابو عمر د بھی تھی۔حضرت عاصم میانہ قد کے تھے اور بالوں پہ مہندی لگایا کرتے تھے۔حضرت عاصم کے بیٹے کا نام ابو البداح تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 354-355 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 111 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت عاصم کی بیٹی کا نام سہلہ تھا جس کی شادی حضرت عبد الرحمن بن عوف کے ساتھ ہوئی اور ان کے اس شادی سے چار بچے تھے تین بیٹے : معن، عمر، زید اور ایک بیٹی امتہ الر حمن صغرای۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 94 عبدالرحمن بن عوف، مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم بن عدی کو قبا اور مدینہ کے بالائی حصہ "عالیہ" پر امیر مقرر فرمایا۔ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ روحاء مقام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم کو مدینہ کے بالائی حصے عالیہ پر امیر مقرر کرتے ہوئے واپس بھیج دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاصم کو واپس بھجوایا لیکن آپ کو اصحاب بدر میں شمار کیا اور ان کے لیے اموالِ غنیمت میں سے بھی حصہ مقرر فرمایا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 355 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 3 صفحه 463 عاصم بن عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) سیرت خاتم النبیین میں اس واقعے کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے کہ " مدینہ سے نکلتے ہوئے آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا تھا۔مگر جب آپ روحاء کے قریب پہنچے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلہ پر ہے تو غالباً اس خیال سے کہ عبد اللہ ایک نابینا آدمی