خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 437

خطبات مسرور جلد 17 437 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی تھی۔قریش کے جو مظالم تھے وہ بڑھتے چلے گئے اور مسلمانوں کے لیے مکے میں کوئی امن کی جگہ نہیں تھی تو اس پر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہجرت کرو اور پھر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پا کر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔اور ہجرت کا یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر حبشہ میں مہاجرین کی جو تعداد تھی وہ ایک سو تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عور تیں تھیں باقی مرد تھے۔تو اس طرح یہ دوسری ہجرت ہوئی۔بہر حال حضرت عبد اللہ بن مظعون کے متعلق یہی ہے کہ وہ پہلی ہجرت میں واپس آئے تھے لیکن دوبارہ واپس گئے یہ نہیں پتہ۔یا پھر یہاں سے انہوں نے مدینہ ہجرت کی۔(ماخوذ از سیرت حضرت خاتم النبيين مصفحہ 146 149) بہر حال حضرت عبداللہ بن مظعون جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سہل بن عبید اللہ انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء 3 صفحه 214 ، عبد ا الله بن مظعون دار احياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مظعون کی حضرت قطبه بن عامر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات قائم فرمائی تھی۔(عيون الاثر جلد 1 صفحه ،232 ذكر المواخات دار القلم بيروت 1993ء) حضرت عبد اللہ بن مظعون اپنے تینوں بھائیوں حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت قدامہ بن مظعون اور حضرت سائب بن مظعون کے ہمراہ غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مظعون غزوہ بدر کے علاوہ غزوہ احد اور خندق اور دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مطعون نے حضرت عثمان کے دور خلافت میں 130 ہجری میں بعمر ساٹھ سال وفات پائی تھی۔(اسدالغابة فى معرفة الصحابة جلد2 صفحه 399 سائب بن مظعون دارالکتب العلميه بيروت 1996ء) الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء 3 صفحه، 212 ، 214 ، عبد ا الله بن مظعون دار احياء التراث العربي بیروت لبنان 1996ء) اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 06 ستمبر 2019 ء جلد 26 شماره 51 صفحہ 05 تا 09)