خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد 17 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 کے ماموں تھے۔کیونکہ حضرت عمر نے ان کی ہمشیرہ زینب بنت مطعون سے شادی کی تھی۔یزید بن رومان سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مظعونؓ اور حضرت قدامہ بن مظعون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارار تم میں جانے اور اس میں دعوتِ اسلام دینے سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 463، من بنى جمع وحلفائهم، دار الكتب العلمية 2001ء)(الطبقات الكبرى لا بن سعد، الجزء3 صفحه 214، عبد الله بن مظعون داراحياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد، جلد 3 صفحه 201 ، عمر بن الخطاب دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2012ء) (اسد الغابه في معرفة الصحابه ، جلد 3 صفحه 391 ، عبد الله بن مظعون، دار الكتب العلمية بيروت 2008ء)(اسدالغابة في معرفة الصحابة جلد2 صفحه 399 سائب بن مظعون دارالکتب العلميه بيروت 1996ء) حضرت عبد اللہ بن مظعون اور ان کے تینوں بھائی حضرت قدامہ بن مظعون اور حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت سائب بن مطعون حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے اور حبشہ میں قیام کے دوران جب انہیں خبر ملی کہ قریش ایمان لے آئے ہیں تب یہ لوگ واپس آگئے۔السيرة النبوية لابن هشام صفحه 241 ، 267 ، من هاجر الى الحبشة من بنى جمع ، ، من عاد من بنى جمع، دار الكتب العلمية2001ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد2 صفحه 399 سائب بن مظعون، دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) میں بعض صحابہ کے ذکر میں پہلے بھی حبشہ کی ہجرت کا یہ ذکر کر چکا ہوں کہ مسلمانوں کی تکلیفیں جب انتہا کو پہنچ گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔اُس زمانے میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر رجب پانچ نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جب انہوں نے ہجرت کی تو یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ جب وہ مکے سے نکلے ہیں اور جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے جب یہ شعیبہ مقام پر پہنچے جو اس زمانے میں عرب کی ایک بندر گاہ تھی تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا لیکن جیسا کہ بعض مؤرخین نے بیان کیا ہے اور ان کے ضمن میں پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ خبر سن کے واپس آگئے تھے۔مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک افواہ اڑتی ہوئی ان کو پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکے میں بالکل امن ہو گیا ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بلا سوچے سمجھے واپس آگئے۔جب یہ لوگ مکے کے پاس پہنچے تو پتا لگا کہ یہ خبر تو غلط تھی اور مہاجرین کو حبشہ سے واپس پر پہنچے پتالگا لانے کی کافروں کی ایک کوشش تھی۔اب ان سب کو بڑی مشکل کا سامنا تھا۔بہر حال کوئی اور رستہ نہیں تھا۔بعض تو رستہ میں سے واپس چلے گئے اور بعض نے مکے میں آکے کسی صاحب اثر کی پناہ لے لی لیکن وہ بھی