خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد 17 435 خطبه جمعه فرموده مورخه 16 اگست 2019 آپ لکھتے ہیں کہ قانونِ الہی کے ماتحت اس حدیث کی ایک تعبیر تو ضرور کرنی پڑے گی کہ وہی دعائیں قبول ہوتی ہیں جو سنت اللہ اور قانونِ الہی کے مطابق ہوں۔غلط قسم کی دعائیں تو بہر حال قبول نہیں ہوں گی۔دعائیں وہی قبول ہوں گی جو اللہ کی سنت کے مطابق ہیں۔جو جائز دعائیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہیں لیکن جہاں یہ بہت بڑی نعمت ہے وہاں یہ آسان امر بھی نہیں ہے۔جمعے کا وقت قریباً دوسری اذان یا اس سے کچھ دیر پہلے سے شروع ہو کر نماز کے بعد سلام پھیر نے تک ہوتا ہے۔اگر یہ دونوں وقت ملا لیے جائیں اور خطبہ جمعہ چھوٹا بھی ہو تو یہ وقت بھی آدھ گھنٹہ ہو جاتا ہے اور اگر خطبہ لمبا ہو جائے تو یہ وقت گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بھی ہو سکتا ہے۔اس ایک گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جب انسان کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہو جاتی ہے لیکن اس تولے منٹ کے عرصے میں انسان کو یہ علم نہیں ہو تا کہ آیا پہلا منٹ قبولیت دعا کا ہے، دوسرامنٹ قبولیت دعا کا ہے یا تیسر امنٹ قبولیت دعا کا ہے۔یہاں تک کہ نوے منٹ کے آخر تک انسان کسی منٹ کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قبولیت دعا کا وقت ہے۔گویا وہ گھڑی جس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے توے منٹ میں تلاش کرنی پڑے گی اور وہی شخص قبولیت دعا کا موقع تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکے گا جو برابر نوے منٹ تک دعا کرتا رہے اور نوے منٹ تک برابر دعا میں لگے رہنا اور توجہ کو قائم رکھنا یہ ہر ایک کا کام نہیں ، بڑا مشکل کام ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ بعض لوگ تو پانچ منٹ بھی اپنی توجہ قائم نہیں رکھ سکتے۔کہتے ہیں کہ میں اس وقت مثلاً نماز کے لیے آیا ہوں۔انسان اِدھر اُدھر نظر مارتا ہی ہے۔میں نے خطبہ سے پہلے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ سنتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور یک دم ان کی آنکھ ادھر ادھر جا پڑتی تھی۔سنتوں پر ڈیڑھ دو منٹ لگتے ہیں مگر اس تھوڑے سے وقت میں بھی وہ کبھی دائیں دیکھتے تھے ، کبھی بائیں دیکھتے تھے، کبھی زمین کی طرف دیکھتے تھے ، کبھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔جب ڈیڑھ دو منٹ تک توجہ کو قائم رکھنا مشکل ہے تو نوے منٹ تک دعا کرتے رہنا، ذکر الہی میں لگے رہنا اور توجہ کو ایک ہی طرف قائم رکھنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 33 صفحہ 161-162 ، خطبہ فرمودہ 30 مئی 1952ء) (صحيح بخاري كتاب الجمعه باب الساعة التي في يوم الجمعه حدیث 935) پس یہ گھڑی کا ذکر بھی ہے تو اس میں مسلسل توجہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ بڑی محنت طلب چیز ہے اور اس کے لیے بڑا مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔یہ آسان چیز نہیں ہے۔یہ نہیں کہ ہم نے دعا کی تو اس منٹ میں قبول ہو گئی۔انسان کو نہیں پتا کون سامنٹ ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ اس عرصے میں انسان بغیر توجہ ہٹائے مسلسل دعا میں لگا رہے اور یہ لگارہنا ضروری ہے اور جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے۔میں نے ذکر کیا کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔جمعے کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔دوسرے جن صحابی کا ذکر میں اس وقت کروں گا ان کا نام عبد اللہ بن مطعون ہے۔حضرت عبد اللہ بن مظعون کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو مجمع سے تھا۔ان کی والدہ کا نام سٹیکہ بنتِ عنبس تھا۔یہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت قدامہ بن مظعونؓ اور حضرت سائب بن مظعون کے بھائی تھے اور یہ سب رشتے میں حضرت عبد اللہ بن عمر