خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 434
خطبات مسرور جلد 17 434 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 پھر ایک اور روایت ہے۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے بیان کیا کہ میں نے ایک مرتبہ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے عرض کیا کہ ہم اللہ کی کتاب میں جمعے کے دن ایک ایسی گھڑی کا ذکر پاتے ہیں کہ مومن بندہ جو نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے کچھ مانگ رہا ہو وہ اس گھڑی کو نہیں پاتا مگر اللہ اس کی وہ حاجت پوری کر دیتا ہے۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا " یا گھڑی کا کچھ حصہ یا ایک تھوڑا سا وقت ہے۔" میں نے عرض کیا کہ جی یا گھڑی کا کچھ حصہ۔" پھر میں نے عرض کیا کہ وہ کون سی گھڑی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دن کی آخری گھڑیوں میں سے ہے۔یعنی دن ڈھلنے کے قریب ہے۔میں نے کہا وہ نماز کی گھڑی نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔مومن بندہ جب نماز پڑھ لے اور بیٹھ جائے اور صرف نماز ہی اسے روکے ہوئے ہو تو وہ نماز میں ہی ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب ما جاء فى الساعة التى ترجى فى الجمعه، حدیث 1139) نماز کے بعد پھر بھی اگر ذکر الہی کر رہا ہے تو وہ نماز کی حالت ہی ہے اور دعا کی کیفیت ہی اس میں پیدا ہوتی ہے۔پھر ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعے کے دن ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے اور وہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے۔؟ (مسند احمد بن حنبل جلد 13 صفحه 117 مسند ابوهریره ، حدیث ،7688 ، مكتبه مؤسسة الرساله 2008ء) یہاں جمعے کا دن ہے لیکن عصر کے بعد کی روایت مسند احمد بن حنبل کی آتی ہے۔پھر ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو سلمہ نے اس گھڑی کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر ساعاتِ النهار یعنی یہ گھڑی دن کی آخری گھڑیوں میں سے ہے۔(مسند احمد بن حنبل المجلد السابع صفحه 847-848 مسند عبد ال الله بن سلام حدیث 24189، مكتبه عالم الكتب بيروت 1998ء) اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ جمعہ اور رمضان کو آپس میں ایک مشابہت حاصل ہے اور وہ یہ کہ جمعہ بھی قبولیت دعا کا دن ہے اور رمضان بھی قبولیت دعا کا مہینہ ہے۔جمعے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز کے لیے مسجد میں آجائے اور خاموش بیٹھ کر ذکر الہی میں لگار ہے، امام کا انتظار کرے اور بعد میں اطمینان کے ساتھ خطبہ سنے اور نماز باجماعت میں شامل ہو تو اس کے لیے خاص طور پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اور پھر ایک گھڑی جمعے کے دن ایسی بھی آتی ہے کہ جس میں انسان جو دعا بھی کرے قبول ہو جاتی ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس گھڑی کو ایسی حالت میں پائے گا کہ وہ اس میں کھڑا نماز پڑھ رہا ہو گا تو وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے گا وہ اس کو ضرور دے گا اور آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ گھڑی تھوڑی سی ہے۔یہ بخاری کی حدیث ہے جس کا پہلے ذکر تھا۔یہ بھی ابو ہریرہ سے روایت ہے۔