خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد 17 433 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہو گا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو یہ ابو سعید کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔یہ چھڑیاں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہوئی ہیں اور ہم خاص طور پہ بنا کے دیا کرتے تھے اور آپ استعمال کیا کرتے تھے۔پھر واپس بھی کر دیتے تھے یا تحفے کے طور پر دے دیتے تھے اور ان چھڑیوں میں یہ بہت ساری برکات ہیں اس لیے میں ان کو جوڑ رہا ہوں۔پھر یہ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابو سعید حضرت ابوہریرہؓ نے ہمیں ایک ایسی گھڑی کے متعلق حدیث سنائی ہے جو کہ جمعے کے دن آتی ہے۔وہ سوال تو وہ پوچھنے گیا تھا لیکن پھر وہاں ان کو یہ دیکھتے ہوئے کہ سوٹیوں کو اکٹھے کر رہے ہیں ، arrange کر رہے ہیں تو اس کا ضمنا ذ کر آگیا اور اس کی تفصیل بیان ہو گئی۔اب دوبارہ وہ اپنے سوال کی طرف لوٹتے ہیں اور کہتے ہیں۔یہ ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے کہ جمعے کے دن ایسی گھڑی آتی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلا دی گئی۔ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبد اللہ بن سلام کے پاس چلا گیا۔(مسند احمد بن حنبل المجلد الرابع صفحه 165 مسند ابوسعید خدری حدیث 11647 مكتبه عالم الكتب بيروت 1998ء)(صحيح البخارى كتاب الصلوة باب حكّ المخاط بالحصى من المسجد حديث 408-409) مسند احمد بن حنبل کی جو یہ روایت بیان ہوئی ہے اس میں جمعے کے روز جس گھڑی کا ذکر ہے اس گھڑی کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ان روایات سے تین مختلف اوقات کا یا باتوں کا پتا لگتا ہے۔پہلا تو یہ کہ یہ گھڑی جمعے کے دوران آتی ہے۔دوسراجو مختلف روایتیں بیان ہوئی ہیں ان سے یہ کہ دن کے آخری حصے میں آتی ہے۔اور تیسری یہ کہ نماز عصر کے بعد آتی ہے۔چنانچہ یہ روایات یہاں بیان کر دیتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس گھڑی کو ایسی حالت میں پائے گا کہ وہ اس میں کھڑ انماز پڑھ رہا ہو گا تو وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے گا وہ ضرور اس کو دے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ گھڑی بہت تھوڑی سی ہے۔وہ بہت تھوڑا وقت ہے۔(صحيح البخارى كتاب الجمعه باب الساعة التي في يوم الجمعه حديث 935) پھر ایک صحیح مسلم کی روایت ہے ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے مجھ سے کہا کیا تم نے اپنے والد سے جمعے کی گھڑی کی کیفیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے سنا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہاں میں نے سنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہوتی ہے۔(صحیح مسلم کتاب الجمعه باب في الساعة التي في يوم الجمعه حديث 853)