خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 432

خطبات مسرور جلد 17 432 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جمعے کے دن ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی مسلمان کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔اور حضرت ابو ہریرہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا کہ بہت چھوٹی سی ہے۔جب حضرت ابو ہریرہ کی وفات ہوئی تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا اگر میں حضرت ابو سعید خدری کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا۔ہو سکتا ہے انہیں اس کا علم ہو۔چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھاوہ چھڑیاں سیدھی کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابو سعید ! یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو آپ سیدھی کر رہے ہیں ؟ جو سوٹیاں تھیں وہ میں آپ کو سیدھی کرتے دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے برکت رکھی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں ہاتھ میں پکڑ کر چلا کرتے تھے۔ہم انہیں سیدھا کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ رخ تھوک لگا ہوا دیکھا۔کسی نے تھوک پھینکا تو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی۔آپ نے اس چھڑی سے اسے صاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھو کے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو رہے ہو تو سامنے کی طرف نہ تھو کا کرو اور اس وقت میرا خیال ہے ابھی پوری طرح احکامات بھی نہیں تھے۔اس لیے اس روایت میں یہ ہے کہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھو کو اور یہ روایت بخاری میں بھی ہے۔اس وقت کچی جگہ ہوتی تھی اور بعد میں مٹی ڈال کر یا مٹی سے صاف کر دیتے ہوں گے اس لیے نیچے تھوکنے کا کہا لیکن اصل جو ایک اور روایت ہے اور بعد میں جب صحیح تربیت بھی ہو گئی اور احکامات بھی آگئے تو اس میں یہی ہے کہ تمہارا جو چادر کا پلو ہے اس میں صاف کیا کرو۔ناک ہے یا تھوک ہے اُسے صاف کرنے کی اگر کوئی حاجت پڑ جائے تو کیونکہ اب تو رومال ہیں، ٹشو ہیں اور مسجدوں میں ویسے بھی قالین ہوتے ہیں اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیچے تھوکنا جائز ہے بلکہ اُن حالات میں ایک وقتی اجازت تھی اور اس کے بعد پھر آپ نے با قاعدہ وضاحت سے بیان فرمایا کہ اگر ایسا ناک صاف کرنے کی یا تھوکنے کی کوئی حاجت پڑ جائے تو چادر کے ایک کونے سے لو اور اسے لپیٹ دو اور باہر جاکے صاف کر دو۔تو راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اسی رات خوب زور دار بارش ہوئی اور جب نماز عشاء کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی تو آپ کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان پر پڑی۔آپ نے فرمایا اسے قتادہ رات کے اس وقت تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لیے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے۔بارش بہت ہو رہی ہے، بجلی چمک رہی ہے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہو جاؤں اور میں پہلے آگیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھ چکو توڑک جانا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گزرنے لگوں۔چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قتادہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو۔یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی پھر