خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 431
431 خطبات مسرور جلد 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے۔یہ سمجھتا تھا کہ ایمان تو یہ لے آئے ہیں، مسلمان ہو گئے ہیں لیکن ایمان مضبوط نہیں ہے۔لیکن جب یہ ہتھیار ان لوگوں کی طرف سے واپس ہوئے جنہوں نے یہ چرائے تھے اور جب میں ہتھیار لے کے اپنے چچا کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں تو اس وقت مجھے پتالگ گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ چا کا اسلام پختہ اور درست تھا اور مجھے یوں ہی ان پر شک تھا کہ ان کا ایمان مضبوط نہیں۔جب قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر جو ان میں سے ایک بھائی تھا جس کے بارے میں انہوں نے پہلے کہا کہ اس پر ان کو منافقت کا شک تھا وہ جا کے مشرکوں میں شامل ہو گیا اور سُلافہ بنتِ سعد کے پاس جا ٹھہرا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلًا بَعِيدًا (النساء: 117،116) کہ جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر روشن ہو چکی ہو اور مومنوں کے طریق کے سوا کوئی اور طریق اختیار کرے تو ہم اسے اسی جانب پھیر دیں گے جس جانب وہ مڑ گیا ہے اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بر اٹھکانہ ہے۔یقینا اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کا شریک ٹھہر آیا جائے اور جو اس کے سوا ہے معاف کر دیتا ہے جس کے لیے چاہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو وہ یقیناً دور کی گمراہی میں بہک گیا۔جب یہ اس مشرک سلافہ کے پاس جاکر ٹھہرا اور اسلام سے ہٹ گیا تو حضرت حسان بن ثابت نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی۔یہ سن کر وہ یعنی سُلافہ بنت سعد جو تھی اس کا سامان اپنے سر پر رکھ کر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی اور پھر اس نے کہا کہ تم نے ہمیں حسّان کے شعر کا تحفہ دیا ہے یعنی اس نے یہ ہجو لکھی ہے اور تمہاری وجہ سے لکھی گئی ہے ہم بھی اس میں شامل ہو گئے۔تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔(سنن الترمذی ابواب تفسير القرآن باب ومن سورة النساء حدیث نمبر 3036) اس لیے میں تمہار ا سامان نہیں رکھوں گی۔تو یہ منافق کا یا پھر مشرک کا انجام ہوا۔پھر حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان نے ایک مر تبہ سورہ اخلاص ہی پر ساری رات گزار دی۔ساری رات سورت اخلاص پڑھتے رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! سورۃ اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔احمد بن حنبل المجلد الرابع صفحه 42 مسند ابوسعید خدری حدیث ،11131، مكتبه عالم الكتب بيروت 1998ء) جو آگے یہ کہتے ہیں وہ یہی بات کی تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت جو ہے وہی تو حقیقی قرآن ہے اور قرآن کریم میں اسی کی تعلیم ملتی ہے۔ابوسلمہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیا کرتے تھے