خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 430

خطبات مسرور جلد 17 430 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 اور ان لوگوں کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں یقینا اللہ سخت خیانت کرنے والے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا۔وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں جبکہ اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتیں ایسی باتیں کرتے ہوئے گزارتے ہیں جو وہ پسند نہیں کرتا اور اللہ اسے گھیرے ہوئے ہے جو وہ کرتے ہیں۔دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم دنیا کی زندگی میں تو ان کے حق میں بخشیں کرتے ہو۔پس قیامت کے دن ان کے حق میں اللہ سے کون بحث کرے گا یا کون ہے جو ان کا حمایتی ہو گا اور جو بھی کوئی برا فعل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش طلب کرے وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا پائے گا۔پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَكْسِبُ اثْمَّا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا۔وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ اثْمَا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيْنًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔(النساء:112-113) یعنی جو کوئی گناہ کماتا ہے تو یقیناوہ اسے اپنے ہی خلاف کماتا ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا اور حکمت والا ہے اور جو کسی خطا کا مر تکب ہو یا گناہ کرے پھر کسی معصوم پر اس کی تہمت لگا دے تو اس نے بہت بڑا بہتان اور کھلا کھلا گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے۔کہتے ہیں کہ اس سے اشارہ بنوا بیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے اور پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا انْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ أَجْوَهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔(النساء:114-115) اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتے تو ان میں سے ایک گروہ نے تو ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ ضرور تجھے گمراہ کر دیں گے لیکن وہ اپنے سواکسی کو گمراہ نہیں کر سکتے اور وہ تجھے ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتارے ہیں اور تجھے وہ کچھ سکھایا ہے جو تو نہیں جانتا تھا اور تجھ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی کی بات نہیں سوائے اس کے کہ کوئی صدقہ یا معروف کی یالوگوں کے در میان اصلاح کی تلقین کرے۔اور جو بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش میں ایسا کرتا ہے تو ضرور ہم اسے ایک بڑا اجر عطا کرتے ہیں۔بہر حال ان آیات کے اور بھی بڑے مطالب ہیں لیکن اگر اس کے بارے میں بھی لیا جائے تو کچھ عرصے بعد ان کو یہی خیال ہوا کہ ہمارے اس معاملے میں یہ ساری آیات نازل ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقت کھول دی اور پھر اس کا اثر یہ بھی ہوا کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بنو ابیر ق، جن پہ چوری کا شبہ تھا انہوں نے سمجھا کہ یہ ہمارے بارے میں ہی ہے تو انہوں نے اپنی وہ چوری تسلیم کر لی اور ہتھیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہتھیار رفاعہ کو جو مالک تھے ان کو لوٹا دیے۔حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میرے چا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں اور میں