خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 429

429 خطبات مسرور جلد 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 اور آپ سے اس حادثے کا ذکر کرتے تو ہو سکتا ہے میر امال مجھے مل جاتا۔حضرت قتادہ بن نعمان کہتے ہیں کہ میں یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔انہوں نے میرے چار فاعہ بن زید کے گھر کا رخ کیا ہے اور ان کے گودام میں نقب لگا کر ان کے ہتھیار اور ان کا راشن چرالیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔جہاں تک راشن یا غلے کا تعلق ہے تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بارے میں مشورے کے بعد کوئی فیصلہ دوں گا۔جب یہ بات بنوا بیرق نے سنی تو اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے۔اس شخص کو ائیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے اور ان سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر کہا کہ اے اللہ کے رسول ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چا دونوں ہمیں لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور اچھے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سے بات چیت کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایک ایسے گھر والوں پر چوری کرنے کا الزام عائد کیا ہے جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں اور تمہارے پاس کوئی گواہ اور ثبوت بھی نہیں ہے۔قتادہ کہتے ہیں میں آپ کے پاس سے واپس آگیا۔نیک فطرت تھے ، بڑے نیک تھے ، کہتے ہیں میں واپس آگیا اور میراجی چاہا کہ میں اپنے کچھ مال سے محروم ہو گیا ہو تا تو مجھے گوارا ہو تا لیکن اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات نہ کی ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر مجھے خیال آیا کہ میں نے یوں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی۔اگر میر امال چلا بھی جاتا تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن میں یہ بات نہ کرتا۔کہتے ہیں پھر میرے چانے میرے پاس آکر کہا کہ بھتیجے تم نے اس معاملے میں اب تک کیا کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو جواب دیا تھا میں نے انہیں وہ بتا دیا۔وہی جو اب انہیں دے دیا۔اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے۔ہماری اس بات چیت کو ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا اَركَ اللهُ وَلَا تَكُن لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا (النساء: 106) یعنی ہم نے یقینا تیری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے سمجھایا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حق میں بحث کرنے والا نہ بن۔خائنین سے مراد یہاں لکھا ہے کہ بنوا بیر ق ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ وَاسْتَغْفِرِ اللہ کہ اللہ سے مغفرت چاہو۔اِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيما - ( النساء:107) یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑا رحیم ہے، مہربان ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا أَلِيمًا يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا فَانْتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فَمَنْ تُجَادِلُ الله عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَمْ مَّنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا۔وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَّحِيمًا۔(النساء: 108-111)