خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 428

خطبات مسرور جلد 17 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 نبع ایک درخت ہے جس سے تیر بنائے جاتے ہیں ، اس سے بنی ہوئی تھی اور یہ وہ کمان تھی جو غزوۂ احد کے روز حضرت قتادہ کے ہاتھ سے کثرتِ استعمال کی وجہ سے ٹوٹی تھی۔( تاريخ دمشق لابن عساكر جلد 4 صفحه 148 باب ذكر سلاحه ومركوبه۔۔۔۔۔۔دار احياء التراث العربی 2001ء) (لغات الحدیث جلد 4 صفحہ 293 مطبوعہ علی آصف پر نٹر ز لاہور 2005ء) حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک خاندان ایسا تھا جنہیں بَنُو ا بَيْرِقُ کہا جاتا تھا۔ان میں تین بھائی تھے بشر ، بشیر اور مبشر۔بشیر منافق تھا۔شعر کہتا تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہجو کرتا تھا۔بظاہر یہ مسلمان تھا لیکن بعض عمل اس کے ایسے نہیں تھے۔پھر ان کو بعض عرب کی طرف سے منسوب کر کے کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یہ شعر سنا جو وہ شعر کہتا تھا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! یہ شعر اسی بد باطن شخص نے کہا ہوا ہے اور انہوں نے یعنی صحابہ نے کہا کہ یہ اشعار ابن ابیرش کے کہے ہوئے ہیں۔وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے۔کوئی ان میں تبدیلی نہیں پیدا ہوئی۔کام نہیں کرتے تھے یا محنت نہیں کرتے تھے۔اس وجہ سے بہر حال بہت زیادہ غریب تھے۔پھر کہتے ہیں کہ مدینے میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی ہو تا تھا۔جب کوئی شخص مال دار ہو جاتا اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا لے کر آتا، پسا ہوا بار یک آٹا تو وہ مال دار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا۔لیکن اس کے بال بچے جو تھے وہ کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے تھے۔کہتے ہیں ایک بار ایسا ہوا کہ جب ایک غلے کا تاجر شام سے آیا تو میرے چچار فاعہ بن زید نے میدے کی، سفید آٹے کی ایک بوری خریدی اور اسے اپنے گودام میں رکھ دیا۔اس گودام میں ہتھیار اور زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی، اسلحہ بھی رکھا ہوا تھا۔کہتے ہیں ان پر ظلم یہ ہوا کہ اس گودام میں نقب لگائی گئی اور دیوار توڑ کے اندر چور آگئے اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرالیا گیا۔صبح کے وقت میرے چار فاعہ میرے پاس آئے اور کہا کہ میرے بھتیجے ! آج کی رات تو میرے پر بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ہمارے گودام میں نقب لگائی گئی ہے۔ہمار اراشن اور ہمارے ہتھیار سب کچھ چرا لیے گئے ہیں۔ہم نے محلے میں پتالگانے کی کوشش کی ہے اور لوگوں سے پوچھ کچھ کی ہے تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنو ائیر ق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلار کھی تھی اور ہمار اخیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر وہ جشن منا رہے ہوں گے یعنی چوری کا مال پکا کر کھا رہے ہوں گے۔جب ہم محلے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے تو بنو ا بیرق نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، کسی اور کا نام لگا دیا۔کہتے ہیں کہ لبید ہم میں سے ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے۔جب لبید نے یہ سنا کہ بنو ابیر ق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی اور کہا کہ میں چور ہوں؟ اللہ کی قسم ! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتا لگا کر دو گے۔بڑے غصے میں کہا کہ اب یہ فیصلہ ہو گا۔لوگوں نے کہا کہ جناب آپ اپنی تلوار دور رکھیں۔آپ چور نہیں ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ بڑے نیک آدمی ہیں۔ہم نے محلے میں مزید پوچھ کچھ کی تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ وہی بنو ابیر ق چور ہیں۔میرے چچا نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے