خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد 17 427 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 کو ایک کمان بطور ہدیہ دی گئی تو وہ غزوہ احد کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی۔میں اس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کا ؤ تر یعنی کمان کی جو ڈور ہوتی ہے وہ ٹوٹ گئی۔میں اس کے باوجو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے سامنے رہا۔عموماً حضرت طلحہ کا ذکر ہوتا ہے۔ان کا بھی ذکر ہے۔کہتے ہیں میں سامنے کھڑا رہا۔جب بھی کوئی تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آتا تو میں اپنا سر اس کے آگے کر دیتا تا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے لیے ڈھال بن سکوں۔اس وقت میرے پاس کوئی تیر نہیں تھا جسے میں چلا سکتا۔اسی دوران ایک تیر میری آنکھ پر لگا جس سے میری آنکھ کاڈیلا نکل کر میری گال پر آگیا اور جتھہ منتشر ہو گیا۔اس عرصے میں جب یہ جتھہ جو حملہ آور تھا منتشر بھی ہو گیا تو اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ڈیلے کو پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔قریب ہی تھا تو وہیں لے گیا۔پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میرے ہاتھ میں دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا اے اللہ ! قتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعے تیرے نبی کے چہرے کو بچایا ہے۔پس تو اس کی اس آنکھ کو دونوں آنکھوں میں سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ نظر والی بنادے۔چنانچہ وہ آنکھ دونوں میں سے زیادہ خوبصورت اور دونوں میں سے نظر کے اعتبار سے زیادہ تیز تھی۔(المعجم الكبير للطبرانى جلد 19 صفحه 8 عمر بن قتادة بن النعمان عن ابيه دار احياء التراث العر بي2002ء) انہوں نے خود جو بیان کیا ہے وہاں بیوی کی محبت کا کوئی نہیں لکھا کہ اس لیے وہ مجھ سے نفرت کرے گی۔تاریخ دانوں نے وہ واقعہ لکھا ہے جو پہلے میں نے بیان کیا تھا۔واقعہ میں دلچپسی پیدا کرنے کے لیے یا ویسے ہی۔بہر حال یہ جو روایت ہے اس میں بیوی کا یہ حوالہ کوئی بھی نہیں آتا لیکن بہر حال جنگ کے دوران آنکھ باہر آگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس اس جگہ پر رکھ دیا اور ان کی نظر وہیں دوبارہ بحال بھی ہو گئی اور بڑی اچھی ہو گئی اور اسی وجہ سے بعد میں حضرت قتادہ ذوالعین، یعنی آنکھ والے کے لقب سے بھی مشہور ہو گئے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 2 صفحه 345 ذوالعین دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) حضرت قتادہ غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو ظفر کا جھنڈا حضرت قتادہ کے ہاتھ میں تھا۔حضرت قتادہ نے 65 سال کی عمر میں 123 ہجری میں وفات پائی۔حضرت عمر نے مدینے میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔قبر میں ان کے اخیافی بھائی حضرت ابوسعید خدری اور محمد بن مسلمہ اور حارث بن خَزمه اترے اور ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ بھی قبر میں اترنے والوں میں شامل تھے۔حضرت قتادہ کے ایک پوتے کا نام عاصم بن عمر تھا جو علم الانساب کا ماہر تھا یعنی قبیلوں کے خاندانوں اور نسلوں کا جو علم ہوتا ہے اور اس سے علامہ ابن اسحاق نے بکثرت روایات بیان کی ہیں۔(الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء الثالث صفحه 239 ومن بني ظفر۔۔۔۔۔۔قتادة بن النعمان دار احياء التراث العربي بیروت 1996ء) (اسد الغابه في معرفة الصحابه لابن اثیر جلد 4 صفحه ،372 قتاده بن نعمان، دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) (سیر الصحابه از سعید انصاری جلد 3 صفحه 474 دار الاشاعت کراچی 2004ء) ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کمان تھی جس کا نام کشوھم تھا اور وہ