خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد 17 426 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 / اگست 2019ء بمطابق 16 ظہور 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، سرے، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں بدری صحابہ کا ذکر کروں گا جو گذشتہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔جو پہلا ذکر ہے وہ حضرت قتادہ بن نعمان انصاری کا ہے۔حضرت قتادہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ظفر سے تھا۔ان کے والد کا نام نعمان بن زید اور والدہ کا نام انیسہ بنت قیس تھا۔حضرت قتادہ کی کنیت ابو عمر کے علاوہ ابو عمرو اور ابو عبد اللہ بھی بیان کی جاتی ہے۔حضرت قتادہ حضرت ابو سعید خدری کے اخیافی بھائی تھے یعنی والدہ کی طرف سے بھائی تھے۔حضرت قتادہ کو ستر انصاری صحابہ کے ہمراہ بیعت عقبہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔البتہ دوسری روایت جو علامہ ابن اسحاق کی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ عقبہ میں شامل ہونے والے انصاری صحابہ میں یہ نہیں تھے یا انہوں نے ان کا تذکرہ نہیں کیا۔حضرت قتادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تیر اندازوں میں سے تھے اور غزوہ بدر، احد، غزوہ خندق اور بعد کے دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شمولیت کی توفیق ملی۔غزوۂ احد کے روز حضرت قتادہ کی آنکھ پر تیر لگا جس سے ان کی آنکھ کا ڈیلا بہ کر باہر آگیا۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! یہ تیر لگا ہے تو میر اڈیلا باہر آگیا ہے اور بات یہ ہے کہ میں اپنی بیوی سے بڑی محبت کرتا ہوں۔اگر اس نے میری آنکھ کو اس طرح دیکھا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈیلے کو اپنے ہاتھ سے واپس رکھ دیا اور صحیح جگہ پر قائم ہو گیا اور بینائی لوٹ آئی۔اور بڑھاپے میں بھی دونوں آنکھوں میں سے یہ والی آنکھ زیادہ قوی اور زیادہ صحیح تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آنکھ میں اپنا لعاب لگایا تھا اس کے نتیجے میں وہ دونوں میں سے حسین تر ہو گئی۔(الطبقات الكبرى لابن۔سعد، الجزء الثالث صفحه 239 ومن بنى ظفر۔قتادة بن النعمان دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) (اسد الغابه في معرفة الصحابه لابن اثیر جلد 4 صفحہ 370-371، قتادہ بن نعمان، دار الکتب العلميه بيروت 2008ء) حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں، یہ خود انہوں نے اس واقعہ کی اپنی تفصیل بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم