خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 424

خطبات مسرور جلد 17 424 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 مجیب الرحمن صاحب کی والدہ اور باقی بہن بھائیوں کو بنگال سے تربیت کے لیے قادیان بھیج دیا تھا۔ان کے والد حضرت حافظ روشن علی صاحب کے اولین شاگردوں میں سے تھے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس اور غلام احمد صاحب بدو ملی وغیرہ بزرگان ان کے ہم مکتب تھے۔انہوں نے تقریباً 36 سال بنگال میں خدمات سر انجام دیں۔مجیب الرحمن صاحب پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب وکیل تھے اور جماعتی خدمات بھی ان کی بہت ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کو 1980ء میں جماعت احمد یہ راولپنڈی کا امیر مقرر کیا تھا اور 1998 ء تک یہ امیر جماعت رہے۔1974ء میں "بیت الحمد " مری روڈ راولپنڈی کی جو مسجد ہے اس کا مقدمہ بھی انہوں نے کافی خدمات سر انجام دیں۔1978ء میں ڈیرہ غازی خان کی مسجد کے مقدمے کی پیروی ہائی کورٹ میں کی۔بے شمار جماعتی مقدمات تھے جن میں انہوں نے پیروی کی اور پیروی کا حق ادا کیا۔1978ء میں مجلس شوری کی سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بنے۔پھر صدر انجمن احمدیہ کے قواعد وضوابط کی تدوین میں ان کو خدمت کا موقع ملا۔فقہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے فقہ احمدیہ حصہ اول کی تدوین میں شمولیت کا موقع ملا۔پھر 1977-78ء کے جلسہ ہائے سالانہ میں ان کو تقاریر کا موقع ملا۔اسلام اور مذہبی آزادی کے عنوان پر 79ء سے 83 ء تک جلسہ ہائے سالانہ میں اسلام میں اختلافات کا آغاز ، احمدی حضرت بانی سلسلہ کی نظر میں، عافیت کا حصار، شجر احمدیت کے شیریں شمار کے موضوع پر تقاریر کا موقع ملا۔ایم ٹی اے کے مختلف پروگراموں میں ان کو شرکت کا موقع ملا۔غیروں کے اعتراضوں کے جواب دیے۔ان کا دینی علم بھی بہت تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی علم بھی بہت تھا اور بولتے بھی بہت اچھا تھے اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہوا تھا جس سے انہوں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا ان کو موقع دیا۔پھر ایم۔ٹی۔اے کے پروگراموں میں مختلف پروگرام شامل ہیں۔1974ء کی پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ پر تبصرہ، عالمی شہرت یافتہ مؤرخین کے انٹرویوز، براہین احمدیہ کے محاسن وغیرہ شامل ہیں۔پھر 1984ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف جو شرعی عدالت میں مقدمہ داخل ہوا اس کی پیروی کی ان کو توفیق ملی اور وہاں بھی انہوں نے اس پیروی کا خوب حق ادا کیا۔فوجی عدالتوں میں بھی پیروی کا ان کو موقع ملا۔جماعت کے خلاف جو مقدمات تھے ان میں انہوں نے اسیرانِ راہِ مولیٰ کی خدمت کی توفیق پائی۔1993ء میں سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کے مقدمہ کی پیروی کرنے والی ٹیم کے رکن بھی بنے تھے۔ان کو وہاں موقع ملا۔1976ء کی کراچی میں منعقدہ جیورسٹس کا نفرنس میں مقالے پڑھنے کا موقع ملا۔انگلستان، جرمنی، سوئٹزر لینڈ، امریکہ، کینیڈا، جاپان وغیرہ میں انسانی حقوق کے حوالے سے دانش وروں اور قانون کے ماہرین سے تبادلہ خیال کرنے اور سیمینارز میں شامل ہونے کا موقع ملا۔منیسوٹا سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں قانون کے طلبہ سے خطاب کرنے کا موقع ملا اور جرمنی کی ایک عدالت میں اٹھارہ گھنٹے تک بطور ایک ایکسپرٹ گواہ کے انہوں نے اپنے بیان ریکارڈ کرانے کی توفیق پائی۔2014ء میں جماعت احمد یہ امریکہ کی طرف سے مختلف یونیورسٹیز میں لیکچر کے