خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد 17 422 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب شاملین بیک وقت مہمان بھی ہیں اور میزبان بھی ہیں۔جب بھی ضرورت پیش آتی تھی تو مہمان میز بان میں بدل جاتے تھے اور یہی ایک خوب صورتی ہے جو ہمارے ہر جلسہ میں ہمیشہ ہونی چاہیے۔کو لمبیا سے تعلق رکھنے والے ایک اخبار نویس وکیل چیز ز لیبلم (Jesus Gabalam) ہیں، کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے بارے میں جو امام جماعت کی تقریر تھی وہ مجھے بہت پسند آئی ہے۔بطور جر نلسٹ دنیا کی اہم سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات کو ملنے کا مجھے موقع ملتا ہے اور امام جماعت سے بھی ملا اور ان سے ملنا مجھے بڑا اچھا لگا۔میری خواہش ہے کہ اسلام کی حسین تعلیمات سے کولمبیا کے لوگوں کو روشناس کروانے کے لیے احمدی مشنریز کو وہاں بھیجا جائے جس کی میرے ملک کو اس وقت بہت ضرورت ہے۔پھر اسی طرح بی۔بی۔ایس ٹی وی (BBS۔TV) یوگنڈا کے سی ای او کہتے ہیں میں نے اتنا بڑا اجتماع ڈسپلن کے ساتھ دیکھا اور بڑا حیران ہوا کہ کوئی فوج اور پولیس نہیں تھی۔میں عیسائی ہوں اور جیز ز ان انڈیا (Jesus in India) کے حوالے سے جلسے میں نمائش دیکھی۔وہاں ایک آرگنائزر سے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بات ہوئی تو انہوں نے مجھے بائبل کے حوالے دے کر ایسی باتیں بتائیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔مجھے سخت حیرانی ہوئی کہ احمدیوں کے پاس تو عیسائیوں سے زیادہ بائبل کا علم ہے۔پھر بولیویا سے ٹی وی کے نمائندے آئے تھے۔جو بڑا ٹی وی شو کرنے والے ہیں۔آر ندیا (Arandia) صاحب ان کا نام ہے۔کہتے ہیں کامیاب تجربہ تھا۔اس سے پہلے مجھے جلسہ سالانہ کینیڈا میں بھی شمولیت کا موقع ملا اور ان جلسوں میں شامل ہو کر مجھے اسلام کی حقیقی تعلیم کے بارے میں پتا چلا ہے۔جلسے کے ماحول اور اس میں ہونے والی تقاریر نے اسلام کے بارے میں میرے تمام تر شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کر دیا ہے۔یوکرائن سے ایک دوست ایگر صاحب تھے۔جو مذہبی علوم کے ماہر ہیں۔انہوں نے پی۔ایچ۔ڈی کی ہوئی ہے۔ڈاکٹر ہیں۔دو کتابیں بھی تصنیف کر چکے ہیں۔انہوں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا بڑا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔جلسے میں شمولیت کی اور پھر انہوں نے بیعت بھی کر لی۔اور یہ یوکرائن قوم سے پہلے احمد کی ہیں۔اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں مجھے مختلف موضوعات پر ہونے والی بہت سی بین الا قوامی کانفرنسوں ، جلسوں اور تقاریب میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے لیکن جلسہ سالانہ میں شمولیت نے میرے دل اور روح پر ایسا اثر کیا ہے جو اس زندگی سے لے کر اگلے جہان میں جانے تک باقی رہے گا۔پھر کہتے ہیں عربی زبان میں ایک بہت پیارا لفظ " نور " ہے جس کا مطلب ہے روشنی اور جلسہ سالانہ ایمان اور محبت کی وہ روشنی ہے جو پوری انسانیت کو اپنے وجود سے منور کرتی ہیں۔پھر کہتے ہیں خلیفة المسیح کے خطابات سے مجھے یہ بات سمجھنے میں بہت مدد ملی کہ اس دنیا میں میری موجودگی کا اصل مقصد کیا ہے۔پھر انتظامیہ کے کاموں کو بھی انہوں نے بڑا سراہا کہ ہر ایک بڑی محنت سے مصروف عمل ہے۔اسی طرح میکسیکو کے تاثرات ہیں۔ایک بیان کر دیتا ہوں۔ماریہ صاحبہ ہیں کہتی ہیں کہ مجھے اسلام قبول کیے صرف دو ماہ ہوئے ہیں۔میرے اسلام کے بارے میں کافی سوالات تھے مگر جلسے میں شمولیت کی وجہ