خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 421
خطبات مسرور جلد 17 421 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 نے چاہا کہ امام جماعت احمدیہ کو ابار یجنل کمیونٹی کا سب سے بڑا اعزاز دوں یا دینا چاہیے تو میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے میزبان سے کیا اور اس کی تکمیل کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے ہیڈ ڈریس جو باز کے پروں سے بنا ہوا ہے۔یہ تاج پہنتے ہیں جس پہ پر لگے ہوتے ہیں اس میں سے باز کا ایک پر جو ہمارے لیے بڑا قیمتی ہے وہ نکال کے امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں پیش کروں اور یہ ایسا اعزاز ہے جو میں نے آج تک کسی لیڈر کو نہیں دیا اور میں جماعت احمدیہ اور ان کے عقائد کا بہت احترام کرتا ہوں۔پھر کہتے ہیں، میرے ساتھ وقت گزارنا بھی مجھے بڑا اچھا لگا اور پھر انہوں نے ایک ملاقات کے دوران مجھے وہ پر دیا بھی تھا۔بیلیز کی ایک مہمان ہیں رینے ٹڑھیو ( Renee Trujillo) جو کو ایف ایم(Love FM) کے چینل کی ڈائریکٹر آف نیوز ہیں۔کہتی ہیں میں نے احمدیوں میں جو اتحاد دیکھا ہے وہ انسان میں ایک نئی روح پھونکنے والا ہے۔اس کو دیکھ کر دل میں امن کے حصول کی خواہش سر اٹھاتی ہے۔ہمیں بڑی سہولیات بہم پہنچائی گئیں۔انتظامات بہت منظم تھے۔امام جماعت کے خطابات موجودہ زمانے کی ضرورت کے عین مطابق تھے۔مجھے ان سب سے زیادہ آپ کے اس خطاب نے متاثر کیا جو آپ نے عورتوں میں کیا تھا اور اس تجربے نے مجھے دین اسلام کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنا دیا ہے۔جلسے میں شمولیت کے باعث مجھے احمدیت اور اس کے عقائد کے متعلق سوالات کرنے کا موقع ملا اور اس کا مجھے فائدہ ہوا۔پھر بیلیز سے چسٹر ولیم (Chester Williams) صاحب ہیں جو بیلیز ملک کے پولیس کمشنر ہیں۔کہتے ہیں اسلام کے متعلق میرے علم میں اضافہ ہوا ہے۔اس جلسہ میں شمولیت سے قبل مجھے لگتا تھا کہ مسلمان ایک جیسے ہیں۔اب سمجھ آئی ہے کہ اور بھی فرقے ہیں۔قابل تعریف بات یہ ہے کہ احمدی امن کو فروغ دیتے ہیں اور نوجوانوں کی اصلاح کے لیے بہت سا وقت خرچ کرتے ہیں۔امریکہ سے حکومتی طور پر کانگریس سٹاف اور اس کے علاوہ یوا میں کمیشن برائے مذہبی آزادی کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔اسی طرح چائنہ کے اویغور مسلم (Uyghur Muslims) جو ہیں ان کے نمائندے بھی تھے۔وہ کہتے ہیں میں نے جلسہ سالانہ یوکے اور یو ایس اے دونوں میں شرکت کی ہے اور جس طرح جماعت مل جل کر کام کرتی ہے یہ دیکھنا نہایت تعجب انگیز ہے۔تمام جماعتی رضا کاران کا بے لوث خدمت کرنا بہت متاثر کن تھا۔اس جلسے نے نوجوانوں کو اتحاد کی طرف مائل کیا اور یکجہتی کا ماحول بھی پیدا ہوا۔یہ ان کے عمومی تاثرات تھے۔پھر باقی اب میں چھوڑ تا ہوں۔ارجنٹائن کے ایک مہمان صحافی تھے۔ان کا ذکر کر دیتا ہوں۔وہ کہتے ہیں خاکسار کو بطور صحافی مختلف ایونٹس (events) میں شامل ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے لیکن آپ لوگوں کے جلسے میں ایک غیر معمولی بات یہ دیکھی ہے کہ سب شاملین اور ممبر ان بیک وقت میزبان آرگنائز نیشن کے ممبر ز معلوم ہوتے ہیں، کہ دونوں شاملین بھی ہیں اور آر گنائزر بھی ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے ایونٹس میں واضح طور پر میزبان اور مہمان میں فرق نظر آتا ہے بلکہ اس پیمانے کا ایونٹ کرنے کے لیے لوگ ہائر کیے جاتے ہیں لیکن آپ کے جلسے