خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 419

مسرور جلد 17 419 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 ایام میرے دل میں ہمیشہ نقش رہیں گے۔میں کبھی فراموش نہیں کر سکوں گی۔برازیل سے ایک دوست ڈان فرانسسکو (Don Francisco) جو ایک کیتھولک عیسائی ہیں اور اخبار اور ریڈیو کے مالک ہیں اور شاہی خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ مجھے مذہبی امور کے تعلق میں واسطہ پڑتا رہتا ہے لیکن جو حسن انتظام جلسہ میں دیکھا ہے بہت متاثر کن تھا۔بہت سی باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔اور میں اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہوں۔کہتے ہیں میں انڈیا کی ایک مسجد میں اپنی بیوی کے ساتھ گیا تو وہاں مسلمانوں کی طرف سے بہت غیر مناسب رویہ پایا لیکن یہاں جلسہ سالانہ کے دوران اور بعد میں بھی اس کے مقابل مجھے بہت عزت اور توقیر ملی۔اور سپین سے سوشلسٹ پارٹی کے سابق ممبر پارلیمنٹ اسٹیکو صاحب(Eustaquio) کہتے ہیں کہ میں خود کو مذہبی عقائد سے دور سمجھتا ہوں لیکن جماعت احمد یہ عمل کے ذریعہ محبت کی تبلیغ کرتی ہے جس کی وجہ سے میں جماعت کے قریب آگیا ہوں۔کل کی بیعت نے میرے اندر بہترین جذبات کو جنم دیا اس لیے میں اس نا قابل فراموش تجر بے کی وجہ سے بہت خوش ہوں۔یہ دن میرے لیے ناقابلِ فراموش ہیں۔ان دنوں میں مجھے محسوس ہوا کہ میں احمدی ہوں جو دنیا میں امن اور محبت چاہتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔بنگلہ دیش کے ایک جسٹس آئے ہوئے تھے ، ریٹائرڈ جسٹس نظام الدین صاحب۔کہتے ہیں میں احمدی نہیں ہوں لیکن احمدی مسلمان ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں احمدیوں پر لمبے عرصے سے مظالم ہورہے ہیں۔ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ (activist) ہونے کی وجہ سے میں انسانی ہمدردی کی بنا پر احمدیوں کی حمایت کرتا ہوں اور مختلف ممالک میں سفر کر چکا ہوں۔ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کا پر چار کرے۔جلسے میں نظم وضبط دیکھا اور افراد جماعت میں اپنے خلیفہ کے لیے پیار اور عزت اور علم کی پیاس نہایت متاثر کن چیزیں تھیں۔میں نے تمام خطابات بڑے غور سے سنے ہیں جس سے میری اپنی بعض غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔احمدیوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بولیں تاکہ ان کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں۔پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں سمجھتے لیکن یہاں آ کے مجھے پتا لگا کہ ایسا نہیں ہے۔مختصر یہ کہ میں نے اس جلسے سے بہت کچھ سیکھا ہے اور میں سب کا بالخصوص امام جماعت احمدیہ کا شکر یہ ادا کر تا ہوں۔ہیو فرے(Hugh Farey) یہ عیسائی کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے ہیں ، سائنس دان ہیں ، نظم برٹش سوسائٹی آف ٹیورن شراؤڈ کے سابقہ ایڈیٹر ہیں۔کہتے ہیں کہ میں با قاعدہ جلسے پر پانچ سال سے آرہا ہوں اور مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے اپنی پر کشش دعاؤں سے پر اس روح کو ختم نہیں ہونے دیا جو اس کی فضا میں مجھے تب بھی محسوس ہوئی تھی جب پہلی دفعہ دعوت دی گئی تھی۔میں شراؤڈ آف ٹیورن کا ماہر ہوں اور یہ ایک ایسا کپڑا ہے جو احمد یہ جماعت میں نہایت دلچپسی کا حامل ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک ثبوت ہے کہ مسیح کی وفات صلیب پر واقع نہیں ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ بات ان کو اس چیز سے نہیں روکتی کہ وہ اس کے ماہرین کو دعوت دیں جن میں سے اکثر اس بات سے متفق ہیں کہ یہ تصویر ایک وفات یافتہ شخص کی طرف دلالت کرتی ہے اور یہ اس بات کو بالائے طاق رکھتے ہیں کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے