خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 418

خطبات مسرور جلد 17 418 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 جلسے میں شامل تمام احمد کی ہمیشہ خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ہمیشہ مدد کرنے کے لیے تیار ہوتے اور ہر مشکل میں اچھا مشورہ دیتے۔بالینڈ سے ایک گروپ آیا ہوا تھا۔اس میں فان بومبل صاحب (Van Bommel) جو کہ سابق ممبر پارلیمنٹ ہیں اور ایک ماہر نفسیات خاتون شامل تھیں۔وہ کہتے ہیں جماعت کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔پہلے بھی جلسے میں شامل ہو چکا ہوں لیکن اس دفعہ بھی انتظامات بہت متاثر کن تھے۔ابھی تک اس بات کو سمجھنے سے میں قاصر ہوں کہ کس طرح رضا کار اتنے زبر دست انداز میں تمام انتظامات کر لیتے ہیں۔مس نکیتا جو کہ ایرانی النسل ہیں وہ بھی انتظامات سے بہت متاثر تھیں خاص طور پر حیران تھیں کہ جماعت نے اتنی بڑی جگہ کس طرح حاصل کر لی اور کس طرح یہ سارے انتظامات ہو رہے ہیں اور ان کو پھر حضرت سلمان فارسی کے حوالے سے تعارف بھی کروایا گیا۔مسیح موعود کے آنے کے بارے میں ان کے ساتھ تبلیغی نشستیں بھی ہوئیں۔اٹلی سے واسکو صاحب (Vasco) ہیں جو نیپلس (Naples) کی یونیورسٹی میں اسلامی فقہ اور شریعت کے پروفیسر ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ میرے لیے بہت کامیاب رہا۔میں نے امام جماعت کا اختتامی خطاب سنا اور مجھے بہت پسند آیا۔خصوصاً اس بات پر جب آپ نے فیملی اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے اور بالخصوص عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بتایا۔میں نے عالمی بیعت میں بھی شرکت کی اور میں اس تقریب میں بہت جذباتی ہو گیا تھا۔اٹلی سے میڈالینا (Madalena) صاحبہ ہیں جنہوں نے ویٹیکن (Vatican) کی اسلامی اور عربی کی یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔کہتی ہیں کہ جلسہ سالانہ بہت اچھا، دل کش، پر امن اور پیار سے بھرا ہوا تھا۔ہر انتظام بہترین تھا۔تقاریر بہت اچھی تھیں اور صرف احمدی احباب کے لیے نہیں بلکہ سب مہمانوں کے لیے علم میں اضافہ کرنے والی تھیں۔نیز احمدیت کا بالخصوص اسلام کا تعارف بڑھانے والی جو باتیں تھیں وہ بہت اچھی تھیں۔پھر جواد بولامل (Jawad Boulaamayl صاحب ہیں جو فرانس میں منسٹری آف جسٹس کے لیے کام کرتے ہیں۔کہتے ہیں پہلی مرتبہ جلسے میں شامل ہوا۔خوشی کا باعث تھا کہ مجھے آپ کی جماعت کو اتنے قریب سے جاننے کا موقع ملا۔جلسے کے دنوں میں IAAAE اور ہیومینٹی فرسٹ کی نمائش میں جاکر اور آپ کی جماعت کے فلاحی کاموں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔اصل دین یہی ہے جو بلا امتیاز قوم و نسل انسانی خدمت کر رہا ہے۔سیکیورٹی انتظامات اور عمومی انتظامات بھی دیکھے اور بڑا متاثر ہوا۔ہر انتظام میں بڑا پروفیشنل ازم تھا۔سپین کے وفد میں ایک مہمان سوزانہ مورال (Susana Morales) شامل تھیں جو کہ جیورسٹ (jurist) ہیں ، وکیل ہیں۔محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کا ذکر کر کے کہتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ جملہ کامل رنگ میں اس شاندار اجتماع کی عکاسی کر رہا ہے۔میں نے مختلف قسم کے لوگوں کو آپس میں ملتے دیکھا ہے یہ ایک ایسا مذ ہب ہے جسے دنیا میں قیام امن کی مساعی اور نا انصافی کے خلاف جنگ کے لیے جانا چاہیے۔بلاشبہ یہ چند