خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 417

مسرور جلد 17 417 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 09 اگست 2019 پروفیسر ہیں اور کہتی ہیں کہ میں نے کبھی ایسا اسلام نہیں دیکھا جو جماعت احمد یہ پیش کرتی ہے۔جلسہ دیکھ کر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک نئے اسلام کو دیکھ رہی ہوں۔آپ کا جلسے کا انتظام بہت اچھا اور عمدہ ہے۔نہ کوئی مسئلہ ،نہ کوئی لڑائی، نہ کوئی گند۔میں اس بات سے بہت متاثر ہوں۔پھر کہتی ہیں جماعت احمدیہ کا حضرت عیسی کے متعلق موقف یعنی صلیب کا واقعہ ، آپ کی ہجرت اور وفات سب سے زیادہ قابل یقین اور حقائق کے مطابق معلوم ہوتی ہیں۔بوسنیا سے ایک فیملی شامل ہوئی اور یہ سرکاری افسر ہیں۔اس فیملی کے سربراہ سینانج صاحب بیجچ (Senaid Begic) ممبر پارلیمنٹ ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ میں سب سے پہلے جماعت احمدیہ کا شکر گزار ہوں کہ جماعت نے مجھے ، میری فیملی کو ایک پر سکون اور پر امن محبت کی فضا میں چند روز گزارنے کا موقع دیا۔جلسہ سالانہ یو کے کا تجربہ ہمارے لیے بالکل نیا تھا۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ اس جلسے کی خوبصورتی اور انتظامی پہلو کے حسن کو بیان کر سکوں۔انتظامیہ نے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھا اور ہر رضا کار نے مسکراتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا۔ہیومینٹی فرسٹ کی نمائش میں مجھے بتایا گیا کہ اس کارِ خیر کے آغاز کا سبب میر املک تھا جہاں جنگ کے دوران جماعت احمدیہ نے اپنی بے لوث خدمت پیش کی تھی اور آج بھی کر رہی ہے۔ان تمام باتوں کے علاوہ ایک خاص بات جس نے مجھے اور میری فیملی کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ آگے پھر میرے سے جو ان کی ملاقات تھی اس کا ذکر کرتے ہیں کہ بڑی اچھی ملاقات رہی۔پھر کہتے ہیں کہ آج میں اس بات کا اعلان کر تاہوں کہ میری طرف سے تاحیات اس دوستی کے تعلق کو اور اخلاص کے تعلق کو نبھایا جائے گا اور بوسنیا میں نیز اس ملک سے باہر بھی حسب توفیق میں اس سلسلے کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے خود کو پیش کرتا ہوں۔پھر مؤانس سینانو وچ صاحب (Muanis Sinanovic) یہ سلوینیا سے ہیں۔مصنف ہیں ، پیدائشی مسلمان ہیں لیکن کبھی ان کی اسلام میں دل چسپی نہیں رہی۔بس نام کے مسلمان تھے۔پچھلے دو سال سے کہتے ہیں میں نے اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور پھر اپنی نمازیں بھی پڑھنی شروع کیں لیکن کسی امام کے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھی۔یہاں آکے میں نے دیکھا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا جو مزہ ہے وہ ایک بالکل الگ مزہ ہے۔پچھلے دو سال سے جب میں نے اسلام میں دل چسپی لینی شروع کی تو میں نے کسی اسلامی کمیونٹی یا اسلامی انٹر پر ٹیشن (interpretation) کو فالو (follow) نہیں کیا بلکہ خود عقل اور دل کے ساتھ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی۔بہر حال جب مجھے احمدیت کے بارے میں پتا لگا تو مجھے ایسے لگا کہ جماعت احمدیہ کی تعلیم وہی ہے جو میں اسلام کے بارے میں خود سمجھتا تھا یعنی ہر چیز فطرت کے مطابق ہے۔ایک اور بات جو ان کو پسند آئی تھی وہ یہ تھی کہ احمدی وہی کرتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور یہ اس لحاظ سے ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے کہ ہمیشہ یادر کھیں کہ ہمارے قول اور عمل ایک ہونا چاہیے۔جو ہم کہیں وہی کریں۔ایک رشین مہمان ہیں عزت صاحب۔کہتے ہیں پہلی مرتبہ جلسے میں شامل ہوا۔میرے دادا نے مجھے جلسے میں شامل ہونے کی تحریک کی۔اس دفعہ آنے کے لیے ان کے دادا نے کہا کہ تمہیں احمدی بلاتے ہیں تو جاؤ۔کہتے ہیں کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ میں اس جماعت کے لوگوں کو دیکھ کر عجیب حیرانگی کی کیفیت میں ہوں۔