خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 416
خطبات مسرور جلد 17 416 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 بشپ ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسے کے انتظامات بہت عمدہ تھے۔کھانا میرے لیے گو مختلف تھا لیکن مجھے پسند آیا۔جلسے کا ماحول ایک بڑی فیملی کی دعوت کی طرح تھا جس میں کوئی اجنبیت نہیں تھی اور ایک دوسرے کے نہ جاننے کے باوجود بھی اپنائیت اور سکون کا احساس تھا۔خلیفہ کی تقاریر میں تمام وہ لوازمات موجود تھے جو ہمارے مطمح نظر کو بدلنے کے لیے ضروری ہیں۔مجھے ان کی تقریر کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ انہوں نے کسی قوم یا مذہب کے بارے میں منفی بات بالکل نہیں کی بلکہ ان کا سارا زور اسلام کی حقیقی اور مثبت تعلیمات پر تھا۔امام جماعت نے اپنی تقریروں میں ایک حدیث پڑھی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خدا قیامت کے دن پوچھے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا یا پیا ساتھا اور نگا تھا تو پانی نہیں دیا اور کپڑے نہیں دیے۔یہی بات بائبل میں بھی مذکور ہے جس کا میرے دل پر اثر ہوا اور پھر مجھے پتا لگا کہ یہ تمام تعلیمات ایک خدا کی طرف سے ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو یہ بھی سمجھنے کی توفیق دے کہ یہ تعلیمات جس خدا کی طرف سے ہیں اسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھیجا ہے اور یہ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیم کو ماننے والے ہوں۔کہتے ہیں میں جب اس جلسہ میں شمولیت کی غرض سے گھر سے نکلا تو میرے ذہن میں اسلام ایک مذہب سے زیادہ نہ تھا مگر یہاں آکر میں نے دیکھا کہ اسلام ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان برادری ہے ، ایک کنبہ ہے، ایک فیملی ہے۔میں اسلام کے قائم کردہ نظام اخوت اور آپ لوگوں کی اپنے مذہب کے لیے جاں فشانی اور قربانیوں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔پھر عالمی بیعت کے حوالے سے کہتے ہیں مجھے پہلے صرف اتنا محسوس ہوا کہ یہ تقریب سب شاملین کے لیے ایک خاص اہمیت کی حامل ہے مگر جیسے ہی بیعت شروع ہوئی تو کسی نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور میں نے بھی اپنے آگے والے شخص کے کندھے پر اپناہاتھ رکھ دیا تو میں نے محسوس کیا کہ ایک برقی رو ہے جو تمام شاملین جلسہ میں سے گزر رہی ہے۔میں نے خاص طور پر یہ محسوس کیا کہ احمدی اس بیعت کے بعد اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کر رہے تھے اور ایسے ہیں کہ جیسے انہیں ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔میں تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس جلسے میں شمولیت کا موقع دیا اور اسلام کی حقیقی تعلیم سے متعارف کرایا اور اب کہتے ہیں مجھے خاص طور پہ یہ احساس ہوا ہے کہ ہمیں چند لوگوں کے غلط اقدامات کی وجہ سے تمام مذہب اسلام کو غلط نہیں سمجھنا چاہیے۔پھر ایک بات ترجمانی کے شعبے کے لیے بھی کہہ دوں جو انہوں نے لکھی ہے جو کمی ہے وہ ہمیں ، ایم۔ٹی۔اے کے ترجمانی کے شعبے کو پوری کرنی چاہیے۔کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ سپینش ترجمے کے حوالے سے میں کہتا ہوں کہ سپینش ترجمہ صرف کرسیوں تک محدود تھا۔اگر کوئی شخص کہیں اور بیٹھنا چاہے تو رینج (range) سے باہر ہو جاتا تھا۔ترجمہ اور آواز نہیں آتی تھی۔سپینش ترجمہ کی رینج کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے ، نہ صرف سپینش بلکہ باقیوں کو بھی چیک کرنا چاہیے۔ان مہمانوں کے ذریعہ سے ہمیں اپنی بعض کمیوں کا بھی پتا لگ جاتا ہے۔اسی طرح سلوینیا سے بار برا ہوچے وار صاحبہ (Barbara Hocevar) آئی تھیں۔یہ عیسائیت کی