خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد 17 414 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 09 اگست 2019 بوڑھے، بچے، عورتیں ، ہر کوئی ایک دوسرے کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا۔اور کوئی ناخوش گوار واقعہ نہیں ہوا۔اور جلسے کے دوران پیش کی جانے والی تقاریر سے مجھے اسلام اور بالخصوص احمدیت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔اور ہمارے ملک گیبون میں جماعت احمدیہ ابھی نئی ہے۔میں احمدیت کو بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح سمجھتا تھا لیکن جب مجھے جلسے میں شامل ہونے کی دعوت دی تو میں نے سوچا میں خود جا کر دیکھوں کہ کیسے لوگ ہیں۔کیا احمدیت کا اسلام بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم ٹی وی کے ذریعہ دیکھتے ہیں جو دنیا کے امن کو برباد کر رہے ہیں ؟ لیکن میں یہاں آکر آپ کے کاموں سے بہت متاثر ہوں۔آپ محنت کرنے والے لوگ ہیں۔آپ کا اسلام حقیقی اسلام ہے اور آج دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔میرے ملک کو بھی اسی اسلام کی ضرورت ہے۔پھر گیبون سے ہی پاسد الو با ادو نکا صاحب(Pacide Olouba Odounga) ہیں جو کہ وزارت خارجہ میں ڈائر یکٹر کیبنٹ ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسے کا ماحول بہت عمدہ تھا۔بڑا روحانی ماحول تھا۔اسے کبھی بھول نہیں سکتا۔جلسے کے انتظامات سے بہت متاثر ہوں۔ایک چین (chain) کی طرح سب چھوٹے بڑے منسلک تھے اور کام کر رہے تھے۔اور پھر کہتے ہیں جماعت احمدیہ کے جلسہ میں شامل ہو کر مجھے قرآن اور بائبل میں بیان کر دہ تعلیمات کا عملی نمونہ دیکھنے کا موقع ملا۔سب ایک خاندان کی شکل میں رہ رہے تھے۔اور اسی طرح پھر انہوں نے میری تقاریر کا ذکر کیا کہ مجھے انہوں نے بہت متاثر کیا۔کہتے ہیں جلسے میں شامل ہو کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔اسلام کے متعلق بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کی توفیق ملی۔میں مسلمان نہیں ہوں لیکن میں اب اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہوں۔اسی طرح مجھے جلسہ کے دوران مختلف نمائشیں اور سٹالز وغیرہ دیکھنے کا بھی موقع ملا جس سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا۔پھر ایک مہمان حیری علی گونیسا صاحب ہیں جو سنٹرل افریقن ریپبلک کے صدر کے مشیر ہیں۔کہتے ہیں جلسے کے دوران انتظامات بہت اعلیٰ تھے۔جماعت احمدیہ کے رضا کار جن میں بچے، جوان، بوڑھے شامل تھے ، ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تھے ، ان لوگوں نے ایک خلیفہ کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے بہترین انتظامات کا ثبوت دیا۔جماعت احمدیہ کا ایک مقصد ہے کہ دنیا میں بھائی چارے کا قیام ہو اس کام کے لیے وہ دن رات محنت کرتے ہیں جبکہ دنیا کی دوسری تنظیموں میں اس اعلیٰ اخلاص کی کمی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اعلیٰ پائے کی اسلامی تعلیمات ہیں جو آپ پیش کرتے ہیں، جو دل پر اثر کرنے والی تھیں اور یہ تعلیمات اور محبت اس سے بہت مختلف ہے جو لوگ جماعت احمد یہ کے متعلق باتیں کرتے ہیں اور اپنی نا سمجھی اور کم علمی کی وجہ سے جماعت احمدیہ کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔اس موقعے پر میں اپنی اور اپنے ملک کی طرف سے اس کامیاب جلسے کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور میں جماعت احمدیہ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ میرے ملک میں بھی ان تعلیمات اور محبت کو عام کریں۔میرا ملک جو کئی سالوں کی خانہ جنگی کے بعد اب امن کی طرف جا رہا ہے ، ان تعلیمات سے ملک میں امن کا دیر پا قیام ہو سکتا ہے۔اور کہتے ہیں جلسے کا ماحول میرے لیے ایک نہ بھولنے والا واقعہ ہے اور میری کوشش ہو گی کہ میں ہر سال جلسے میں شامل ہو کر روحانی سکون حاصل کرنے کی کوشش کروں اور اس کے لیے میں دعا کرتا ہوں۔پھر کہتے ہیں ممکن