خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 413

بات مسرور جلد 17 413 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 پھر شانتل مارتھ ایتالی جو کہ گیبون کی بین میں کو نسلر جنرل ہیں ، کہتی ہیں کہ قبل ازیں پچاسویں جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی تھی اب میں 53 ویں جلسہ سالانہ میں بہت خوش اور دل کی گہرائی سے شکریہ کے جذبات کے ساتھ شامل ہو رہی ہوں اور پہلے بھی یہ محسوس ہوتا تھا کہ روحانی ماحول ہے اور وہی روحانی ماحول اور سب کے لیے جذبات آج بھی ہیں اور سب چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان، بچے عورتیں محبت سے پیش آتے ہیں۔جہاں تک انتظامات کا تعلق ہے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ کے رضا کاروں کا جو نظام ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ہر چیز اپنی جگہ پر تھی جہاں اس کو ہونا چاہیے تھا اور ہر چیز اعلیٰ معیار کی تھی اور ہر ایک میں ، ہر رضا کار میں عاجزی تھی، خدمت کے جذبے سے معمور تھے اور ہر قسم کی خدمت کے لیے حاضر تھے۔میں اپنے آپ کو بھی اس ماحول کا حصہ سمجھنے لگی اور کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اور تقاریر بھی بڑی عمدہ اور تعلیمات سے بھری ہوئی تھیں۔مہمان نوازی بہت عمدہ تھی۔نمائشیں دیکھنے کا مجھے موقع ملا، نمائشیں بہت اعلیٰ تھیں۔کہتی ہیں احمد یہ تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بہت فائدہ ہوا۔نمائشوں میں بہت معلومات تھی اور پھر جماعتی خدمت خلق کے جو کام ہیں ان کو جاننے کا بھی موقع ملا۔کوملن پطرس صاحب (Comlan Patrice) جو بین سے ممبر پارلیمنٹ ہیں اور فنانس کمیشن کے ہیڈ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پہلی دفعہ جماعت احمدیہ کے جلسہ میں شامل ہوا۔بڑا متاثر ہوا کہتے ہیں جب میں بین سے جلسے کے لیے سفر شروع کر رہا تھا تو بالکل بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اتنے بڑے اور عظیم الشان جلسے میں شامل ہونے جارہا ہوں اور اس جلسے میں ہر مرتبہ اور ہر حیثیت والے لوگ شامل تھے لیکن اس کے باوجود میں نے کسی کے چہرے سے ناخوشی کے آثار نہیں دیکھے اور میرا بڑا خیال رکھا۔میرے ایئر پورٹ سے اترنے سے لے کے مہمان نوازی تک چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بڑی خدمت کی اور سب نے اپنے آرام کو ترک کر کے لگتا تھا کہ مہمانوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ مختلف ثقافتیں، مختلف زبانیں، مختلف رنگ و نسل ان سب کے لیے بغیر پولیس اور فوج کے آپ نے کس طرح ڈسپلن اور بغیر شور و غوغا اور لڑائی جھگڑے کے اس کا انتظام کیا؟ پھر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اتنی تعداد میں مختلف لوگ ہیں اور پھر بھی کوئی جھگڑا نہیں ؟ کہتے ہیں میری سوچ کا نتیجہ یہی ہے کہ بے شک یہ سب کچھ جو نظر آتا ہے آپ کی محنت اور جماعت احمدیہ کے ساتھ الہی تائیدات سے ہی ممکن ہوا ہے۔پھر میری تقریر کے بارے میں کہتے ہیں عالمی امن کے لیے بڑی ضروری ہیں۔پھر نمائشیں بہت اچھی لگیں۔اس میں جماعت احمدیہ کی تاریخ بیان کی گئی تھی۔شہدائے احمدیت کے واقعات سن کر مجھے دلی صدمہ ہوا اور بہت کچھ مجھے جاننے کو ملا۔گیبون کے سابق وزیر اعظم اور ممبر پارلیمنٹ پاؤل بیو گے صاحب جلسے میں شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ سو سے زیادہ ممالک سے لوگوں کا ہزاروں کی تعداد میں جلسے میں شامل ہونا میرے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔ان سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لیے رضا کاروں کی ایک بڑی تعداد نے دن رات کام کیا اور چھوٹے، بڑے،