خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 27

خطبات مسرور جلد 17 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 دعا کرو کہ میں اور میری اولاد مرحومہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہو۔لکھتے ہیں کہ جماعت کے لوگوں نے جس کثرت کے ساتھ میری والدہ کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے مجھے پہلے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ کس قدر وسیع پیمانے پر جماعت میں ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والے لوگ موجو د ہیں۔وہاں کی مقامی ایک اور احمدی، امریکن سسٹر عالیہ عزیز لارڈ ہیں۔کہتی ہیں کہ اسلام احمدیت قبول کرنے کے بعد انہوں نے یعنی عالیہ شہید نے بطور احمدی ایک مثالی زندگی گزاری۔جب وہ سیکرٹری تعلیم تھیں تو ان کی وجہ سے کسی کا دل نہیں کرتا تھا کہ ان کے بنائے ہوئے تعلیمی ٹیسٹ میں فیل ہو اس لئے ہم سب اکٹھے مل کر ٹیسٹ کے لئے تیاری کیا کرتے تھے۔کہتی ہیں عمر میں مجھ سے بہت بڑی تھیں لیکن پھر بھی میرے ساتھ دوستانہ تعلق تھا۔ایک بات کہتی ہیں ان میں میں نے دیکھی ہے کہ جب کبھی کوئی علمی سوال ان سے کیا جاتا تو بجائے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے، ادھر ادھر مارنے کے، ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے وہ ہمیشہ اسلامی تعلیم جو ہے اس بارے میں بتایا کرتی تھیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا پختہ تعلق تھا جس کی وجہ سے لوگ ان کی طرف کھچے چلے آتے تھے۔پھر سسٹر جمیلہ حامد ہیں، اہلیہ حامد منیر صاحب ہیں۔یہ بھی مقامی امریکن احمدی ہیں۔یہ لکھتی ہیں کہ مجھے بہت پسند کرتی تھیں۔اور ہمیشہ مجھے بتاتی تھیں کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔کہتی ہیں میری والدہ کی وفات پر انہوں نے مجھے محبت بھر اخط لکھا جس کی بدولت مجھے موت کا فلسفہ سمجھنے میں مدد ملی۔فرشتہ سیرت تھیں۔جب بھی مدد اور مشورے کی ضرورت ہوتی ان کو بس ایک فون کال کی دوری پر پایا۔ہمیشہ مجھے بتائیں کہ زندگی کا مقصد جماعت کی خدمت کرنا اور خلیفہ وقت سے محبت کرنا ہونا چاہئے کہ یہی اس زمانے میں حبل اللہ ہے۔ان کے یقین کامل اور خد اتعالیٰ سے گہری محبت کو میں ہمیشہ رشک کی نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں موت سے ڈر لگتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جانا تو اپنے محبوب کے پاس ہی ہے تو پھر ڈر کس بات کا۔ان کو اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کا گہر اعلم تھا جسے تمام عمر انہوں نے لوگوں تک پہنچایا۔پھر ایک اور مقامی امریکن احمدی ڈاکٹر رشیدہ احمد ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ وہ خود اسلامی تعلیمات پر بڑی سختی سے عمل کرتی تھیں لیکن دوسروں کو بڑے پیار سے نصیحت کیا کرتی تھیں۔ان کی ہر نقل و حرکت میں محبت الہی جھلکتی تھی۔کہتی ہیں مجھے ایک سے زائد مرتبہ ان کے گھر ٹھہرنے کا اتفاق ہوا اور ہم ساتھ نماز پڑھتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے جس کے بعد وہ مجھے خلفائے سلسلہ کی طرف سے آنے والے خطوط بڑی محبت اور چاہت سے دکھاتی تھیں۔خلافت کے ساتھ ان کی محبت کا اندازہ ان کی لکھی ہوئی نظموں اور تقریروں کو سن کر بخوبی ہو سکتا ہے۔کہتی ہیں وہ نظمیں بھی لکھتی تھیں اور بڑے صبر والی تھیں۔ہر مہینہ میں ان کو کال کر کے حال پوچھتی۔ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں کہتی تو کبھی انہوں نے شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرتی اور شکر کرتی تھیں۔پھر اسی طرح ایک مقامی امریکن احمدی ہیں سسٹر عزیزہ، الحاج رشید کی اہلیہ ہیں وہ کہتی ہیں کہ سسٹر عالیہ شہید صاحبہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کی مجسم تصویر تھیں گو کہ وہ دوسرے شہر میں