خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 26
خطبات مسرور جلد 17 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری2019 گیا تو کہتی تھیں کہ میں نے جماعت میں شمولیت کے بعد بہت سے ابتلا دیکھے ہیں۔لیکن میں نے کمزوری دکھانے کے بجائے ہمیشہ استقامت دکھانے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کی کوشش کی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو لجنہ کو گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصہ سے میں دیتی رہی ہوں۔یہ لکھتی ہیں کہ ان کی شخصیت استقامت کا مینار تھی جس سے ہم سب رہنمائی لیتے ہیں۔پھر لکھتی ہیں کہ دین اسلام کے ساری دنیا پر غالب آنے کے متعلق ان کو یقین کامل تھا اور کہا کرتی تھیں کہ جب فتح اسلام آئے گی تو جماعت احمدیہ کا جو مائو ہے، جو نعرہ ہے کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں یہی دنیا میں راج کرے گا۔اسی طرح ان کا نظام خلافت پر بھی کامل یقین تھا اور وہ ایسے ہی فتح اسلام کی کنجی قرار دیا کرتی تھیں۔یہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ نظام خلافت قائم رہے گا اور انشاء اللہ اسی سے فتح ہو گی۔پھر لکھتی ہیں کہ سینکڑوں فون کالز اور خطوط کے ذریعہ وہ ممبرات تک اس پیغام کو پہنچانے اور سمجھانے کی کوشش کرتی تھیں۔23 مارچ 2008ء کو یوم مسیح موعود پر انہوں نے لجنہ کو جو پیغام دیا وہ یہ تھا کہ اس سال یکم جنوری 2008ء کو ساری دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والے اپنی مساجد اور مشن ہاؤسز میں اکٹھے ہوئے اور شکرانے کے طور پر نماز تہجد ادا کی۔ہم ایسا کیوں نہ کرتے کہ یہی تو وہ سال ہے جس میں ہمارے پیارے مسیح موعود کی پیاری خلافت کو قائم ہوئے ایک سو سال ہوئے ہیں۔پھر آگے لکھتی ہیں کہ اے میرے اللہ ! احمدیت کی راہ میں حائل تمام روکوں کو دور فرما اور ہمیں وہ فتح دکھا دے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔ہمارے مسیح موعود نے اس جماعت کی بنیاد رکھی اور ہم سب کو جوڑ کر ایک جسم بنا دیا۔اسی واسطے ہم احمدی ایک دوسرے کا درد محسوس کرتے ہیں۔ابتلاؤں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ایک کی خوشی پر دوسر ا خوش ہو تا ہے اور ایک کی پریشانی پر دوسر اغمزدہ ہو تا ہے۔ہم اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ ایک ہیں۔پھر انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے جو نو مبائعین کو دیا اور وہاں سب احمدی لجنہ کو کہ اللہ کا مجھے پر خاص فضل ہے کہ میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے جماعت کی ترقی اپنی زندگی میں دیکھی ہے۔ہم پر اللہ کا کرم ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو اسلام کی اشاعت کے لئے اور خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ہم ہر ہفتے خلیفہ وقت کی آواز کو سن سکتے ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کر کے دین و دنیا کی ترقیات پاسکتے ہیں۔پھر آخر میں انہوں نے لکھا۔میں دعا کرتی ہوں کہ اے میرے مولیٰ ! فتح اسلام میں حائل تمام روکوں کو دور فرما دے۔ہماری ذات کو اپنے دین کی صحیح عکاسی کرنے والا بنادے اور ہمیں بے شمار ناصر دین عطا کر۔تو اس طرح لجنہ کو خاص طور پر وہاں امریکہ کے جو حالات ہیں اس میں جو نو مبائعات ہیں ، افریقن امریکن ہیں ان کو اکٹھا کرنے میں ان کا بڑا کر دار ہے۔آپ کے بیٹے عمر شہید صاحب جو پٹس برگ کے صدر جماعت ہیں۔لکھتے ہیں کہ میرے والدین احمدیت اور خلافت کے ذریعہ اسلام کا دفاع کرنے والے سپاہی تھے۔میری والدہ مستقل مزاجی کے ساتھ آپ کو خط لکھا کرتی تھیں۔مجھے لکھ رہے ہیں وہ۔اور مجھے بھی اس طرف توجہ دلاتی تھیں کہ خلیفہ وقت کو خط لکھو اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ