خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 412

مسرور جلد 17 412 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 پس یہ وہ خوبی ہے کہ صرف یہی نہیں کہ ظاہری طور پر چند دنوں کے لیے ہم دکھائیں بلکہ یہ ہمیشہ ہمارے اندر رہنی چاہیے۔اور یہی وہ آخری پیغام تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا تھا کہ گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ایک انسان کی حیثیت سے سب برابر ہیں۔پھر مراکش کے ایک دوست ہیں جو کہ فلسفے کے پروفیسر ہیں وہ کہتے ہیں کہ جلسے سے ہم نے بہت اچھا تاثر لیا ہے۔یہ جماعت کو قریب سے دیکھنے کا بڑا اچھا موقع تھا۔ہم نے اس عالمی اجتماع میں جماعت کی بہت مضبوط نظیم، تقسیم کار اور مہمانوں کے بہترین استقبال کو دیکھا۔اسی طرح ہمیں جماعت احمدیہ کے اعلیٰ اخلاق کا پتا لگا جو اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا عکس ہیں۔اس جلسے کے ذریعہ مخالفین کے پروپیگنڈے کا جھوٹ بھی ہم پر کھل گیا۔یہ لوگ اس خدائی جماعت سے خواہ مخواہ کینہ اور دشمنی رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو خدمت انسانیت کی توفیق دیتا چلا جائے۔پھر گئی کنا کری سے الحاج محمد وکیل یا تار صاحب ہیں جو مذہبی امور کے انسپکٹر جنرل ہیں وہ کہتے ہیں کہ جلسے کے ان تین دنوں میں جس چیز نے مجھے بہت متاثر کیا وہ یہ تھی کہ احمدی احباب کی تربیت خالص اسلامی تعلیمات کے مطابق کی گئی ہے اور تمام احمد کی جو اس جگہ جمع ہوئے یوں لگتا تھا کہ یہ سب اسلامی بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہیں۔ایک ہی ماں کی اولاد اور ایک ہی گھر سے آرہے ہیں۔غیر معمولی نظم و ضبط، رضاکاروں کے مسکراتے چہرے، جلسہ گاہ میں بغیر کسی کو تکلیف دیے آنا جانا۔یوں لگتا تھا کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہیں۔یہ سب دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آج اگر کوئی جماعت اسلام کا حوالہ بن سکتی ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہی ہے۔کہتے ہیں مجھے دوسرے اسلامی ممالک کے علاوہ سعودی عرب میں بھی بارہا جانے کا اتفاق ہوا ہے لیکن میں علی وجہ البصیرت کہہ رہا ہوں کہ مجھے اسلامی بھائی چارے سے بھر پور ایسا ماحول کہیں میسر نہیں آیا۔مجھے یہ کہتے ہوئے ذرا بھی عار نہیں کہ تقریباً چالیس ہزار کے قریب لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اور پھر مسلسل اسلامی تعلیمات کا پر چار کرنا اور بغیر کسی جھگڑے اور بھگدڑ کے اللہ تعالیٰ کے رسول کی محبت میں یہ دن گزار نا احمد یہ جماعت کا ہی طرہ امتیاز ہے۔پھر ایک اور خاتون فانتا فوفانہ عمر صاحبہ (Fanta Fofan Oumar) ہیں جو کسٹم ایئر پورٹ گئی کنا کری میں لیفٹینینٹ (lieutenant) ہیں۔انہوں نے بیعت بھی کی ہوئی ہے۔نو مبائعہ ہیں۔کہتی ہیں کہ میں اگرچہ احمد یہ تعلیمات سے متاثر ہو کر احمدی تو ہو گئی تھی لیکن دل میں خوف تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں ہو گیا کیونکہ گنی میں جماعت کی مخالفت اور جماعت مخالف پروپیگینڈا دیکھ کر بعض اوقات پریشان ہو جاتی تھی لیکن آج جبکہ میں جلسہ سالانہ یو کے میں شامل ہوئی ہوں تو میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتی ہوں کہ میرے سارے شکوک و شبہات دور ہو گئے اور جلسے میں شامل ہو کے مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا میں آج اگر کوئی جماعت اسلام کی نمائندگی کر سکتی ہے تو وہ احمد یہ مسلم جماعت ہی ہے۔کہتی ہیں کہ اگر مجھے جلسے کی ویڈیوز مل جائیں تو پھر میں اپنی ساری فیملی کو اس سچائی اور حقیقت سے آشکار کرنا چاہتی ہوں اور آخر میں دعا کی درخواست کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ میرے سارے خاندان کو احمدیت اور حقیقی اسلام میں دل و جان سے داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔