خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 411

خطبات مسرور جلد 17 411 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 تفصیل اور خوبصورتی سے اسلامی تعلیمات کے ذریعہ قائم ہونے والے ہیومن رائٹس پر روشنی ڈالی۔جلسے میں شامل ہونے سے قبل میں کچھ پریشان تھی اور کچھ تحفظات بھی تھے۔میرا خیال تھا کہ اس قدر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے تو یقین بد مزگی اور جھگڑے ہوں گے لیکن آپ لوگوں کا جمع ہونا ہمارے لوگوں کے جمع ہونے سے بالکل مختلف تھا۔لوگوں کے رش اور اس قدر بڑی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود ہر وقت پیار محبت اور امن کا ماحول تھا۔لوگوں کے چہروں پر مستقل مسکراہٹ تھی۔پھر یہ کہتی ہیں مجھے یہ بھی فکر تھی کہ جلسے میں شامل ہونے کے لیے مجھے اسلامی پر دہ کرنے کا کوئی لازمی حکم نہ دیا جائے دباؤ نہ ڈالا جائے۔لیکن شروع سے لے کر آخر تک میں نے اپنے آپ کو آپ کے در میان اسلامی پر دے کے بغیر بہت ہی comfortable محسوس کیا اور آپ کی عورتیں اور مرد مجھ سے بڑی عزت سے پیش آئے بلکہ مجھے ایسا محسوس ہو تا تھا کہ آپ لوگ میر ادوسروں سے زیادہ خیال رکھ رہے ہیں۔لائبیریا کے منسٹر برائے پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کو پر ڈبلیو کر و ا صاحب (Kooper W۔Knah) شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں جلسے کے مختلف پروگرامز کا انعقاد ایسے خوبصورت طریق سے کیا گیا کہ مجھے اس میں کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔یہاں تک کہ جلسے کے انتظامات کے بعض حصے جیسا کہ پبلک ریلیشن سے لے کر کچن تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام انتظامات رضا کاروں کی ٹیم انجام دے رہی تھی جو بر اورانہ ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کر رہے تھے۔میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے اپنی ڈیوٹی کے ساتھ کسی کی ایسی کمٹمنٹ (commitment) نہیں دیکھی جیسے یہ رضا کار اپنے کام کے لیے committed تھے۔جلسے کے پروگراموں کے دوران شاملین جلسہ کی طرف سے بھی ایک دوسرے کے لیے عزت اور اخوت کے جذبات دیکھنے کو ملے۔انتالیس ہزار سے زیادہ لوگوں کے لیے اتنے وسیع پیمانے پر کسی انتظامی بد نظمی کے بغیر سارے پروگرام ترتیب دینا کم از کم میرے لیے تو حیران کن ہے۔پھر یورو گوائے سے ایک مہمان خاتون تھیں جو یونیورسٹی میں اور مینٹل سٹڈیز Oriental) (Studies کی پروفیسر ہیں۔کہتی ہیں کہ میں تیس سال سے زائد عرصے سے اسلامی ممالک اور تنظیموں کا مطالعہ کر رہی ہوں۔آپ کے جلسے میں شامل ہو کر دو امتیازی با تیں دیکھی ہیں جو کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملیں۔پہلی بات یہ ہے کہ جماعت کے اتحاد اور ایک لیڈر کے ذریعہ یک جہتی کی مثال کہیں نہیں دیکھی۔مربیان سے لے کر مختلف شعبوں میں رضا کارانہ ڈیوٹی کرنے والوں میں خواہ کھانا پیش کرنے والے ہوں یا گاڑیوں کے ڈرائیور ہوں ان سب میں ایک بات مشترک ہے، ہر کوئی اپنے خلیفہ سے اطاعت اور اخلاص کا غیر معمولی رشتہ رکھتا ہے۔پس یہ وہ معیار ہے جو ہمارے دوستوں کو بھی نظر آتا ہے اور حاسدوں کو بھی نظر آتا ہے اور اس کی وجہ سے حاسد پھر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کی آج ہم نے عمل سے بھی اور دعا سے بھی حفاظت کرنی ہے۔پھر کہتی ہیں دوسری بات یہ ہے کہ جماعت میں کسی قسم کا ریس ازم (racism) نہیں پایا جاتا خواہ پیدائشی احمدی ہوں یا نئے ، خواہ عرب ہوں یا غیر عرب، خواہ پاکستانی ہوں یا غیر پاکستانی، آپ کی جماعت کا نظام ہر قسم کے ریس ازم (racism) اور قومی تعصب سے پاک معلوم ہوتا ہے۔