خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد 17 410 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 پھر یونان سے چیف ریبائے آف ایتھنز ( Chief Rabbit of Athens) گیبرئیل نیگرین صاحب (Gabriel Negrin) تھے کہتے ہیں میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے اس حیرت انگیز بین الا قوامی جلسے کا حصہ بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔جلسے کا ماحول اور منتظمین اور شرکاء دونوں کی فراخ دلی کا ہر پہلو جماعت احمدیہ کے نصب العین 'محبت سب کے لیے کو اجاگر کرتا ہے۔بحیثیت ریبائے (Rabbi) میں نے یہاں دوسرے مذاہب اور عقائد کے لیے قبولیت اور احترام کو محسوس کیا۔پھر کہتے ہیں مجھے ان تمام محترم اماموں نے دل سے اعزاز سے نوازا جن سے مجھے ملاقات اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔پھر کہتے ہیں کہ میں واقعی خوش تھا کہ میں اپنی مخصوص ٹوپی کیپا (kippah) سر پہ پہن کے بغیر کسی دھمکانے والے اشارے، غضب ناک دیکھتی ہوئی نظروں یا نعوذ باللہ متشدد رد عمل کے ہزاروں مسلمان بھائیوں کے درمیان گھومتا پھرتا تھا اور یہ بالکل اس کے بر عکس تھا جو باقی جگہ مجھے دیکھنے کو ملتا ہے۔پھر کہتے ہیں ہر لحاظ سے میر اخیال رکھا گیا۔میرے لیے کھانا بھی میرے مطابق تیار کیا گیا۔میری عبادت کے فرائض ہیں ان کو بھی ایڈجسٹ (adjust) کیا گیا اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن جلسے کی انتظامیہ نے اور میرے میز بانوں نے یہ سب کچھ میرے لیے کیا۔پھر جاپان سے بدھ مت کے معبد کے چیف یوشیدانی چی کو (Yoshida Nichiko)، یہ جلسے پر آئے تھے اور ان کے مطابق میجی (Meiji) بادشاہ کی والدہ ان کے معبد کی مرید تھیں اور ٹوکیو میں واقع ان کے معبد میں میجی بادشاہ کی والدہ کی راکھ بھی دفن ہے۔کہتے ہیں کہ جلسے کا ماحول دیکھ کر دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔سب کی حفاظت کے لیے چیکنگ تو ہوتی ہے لیکن کوئی جھگڑا نہیں دیکھا، کسی کو تلخ ہوتے نہیں دیکھا۔کھانے سے لے کر تقاریر تک سب پروگرام نہایت منظم تھے اور پھر خطاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ بہت بر وقت محسوس ہوا۔آج واقعی دنیا کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مذہب کی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کی مدد سے ہم ایک دوسرے کے حقوق ادا کر سکتے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ جاپانی معاشرہ بھی والدین اور بچوں میں دوری کے مسئلے سے دوچار ہے۔ہر طرح کی کوشش کے باوجود ہم اس لہر کا مقابلہ نہیں کر پار ہے اور کہتے ہیں کہ آپ کی نصائح ہم اپنے معاشرے میں بھی استعمال کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔کہتے ہیں اسلام کے بارے میں پہلے بھی میر ابرا تاثر نہیں تھا لیکن جلسے کا ماحول دیکھ کر جب بیعت کی تقریب کا وقت آیا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ دنیا میں امن کے قیام اور محبت و اخوت پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے مجھے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے لہذا میں بھی بیعت میں شامل ہو گیا۔میں آپ کی لیڈرشپ کو تسلیم کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا کے امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں میں آپ کا مددگار ہوں گا۔یعنی یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے بیعت کر لی لیکن دنیا میں امن قائم کرنے کا جو مقصد ہے اس کے لیے کہتے ہیں کہ میں ہر طرح آپ کے ساتھ ہوں۔ار جنٹائن سے ایک خاتون تھیں جو دث صاحبہ (Judith) یہ خود عیسائی ہیں۔ان کے خاوند نے دس ماہ پہلے احمدیت قبول کر لی تھی۔کہتی ہیں کہ میں پیشے کے اعتبار سے وکیل ہوں اور جلسے کی تقاریر میں سے میری سب سے پسندیدہ تقریر امام جماعت کا اختتامی خطاب تھا ( وہ میرے خطاب کی بات کر رہی ہیں ) جس میں آپ نے بڑی