خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 409

خطبات مسرور جلد 17 409 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 اگست 2019 انتظامات دیکھنے کا موقع ملا ہے۔جلسے کا ماحول ایسا تھا کہ میں نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا۔میں نے بہت سی مذہبی کا نفرنسز اور اجتماعات میں شرکت کی ہے لیکن جلسہ سالانہ جیسا ماحول کہیں نہیں ملا۔ائیر پورٹ سے لے کر رہائش کے انتظامات تک ایسے انتظامات تھے کہ لگتا تھا کہ گھر میں رہ رہے ہیں۔پھر جلسے میں ہر طبقے کے لوگوں کو دیکھا۔انجنیئرز، ڈاکٹرز، پروفیسر زپڑھے لکھے لوگ، بڑے علم والے لوگ بڑے انکسار سے سب نے ہماری خدمت کی اور اس بات پر بڑے خوش تھے۔پھر میری تقاریر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے صحیح اسلام کا پیغام ملا اور اسی پیغام کی عالم اسلام کو اور مسلمانوں کو ضرورت ہے تاکہ اسلام کے بارے میں جو تحفظات ہیں وہ دور ہوں۔کہتے ہیں میں نے یہاں آکر بہت کچھ سیکھا۔احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔پھر کہتے ہیں کہ میں بین جاکر لوگوں کو بتاؤں گا کہ دوسروں کی باتوں پر کان نہ دھرو اور احمدیت سے سیکھو۔صرف احمد ی ہی ہیں جو دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان کو بیان کر رہے ہیں۔پھر برکینا فاسو سے سیمون سوا دو گو صاحب (Simeon Sawadogo) ہیں جو وزیر مذہبی امور ہیں اور وزیر داخلہ اور وزیر مملکت ہیں۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار یہ کیا کہ بطور وزیر مذہبی امور میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔جلسے میں شامل ہو کر میرے بہت سے سوال حل ہو گئے ہیں۔وہ سوالات جو میں نے پوچھے بھی نہیں ان کے جواب بھی مل گئے۔میری بہت مدد ہوتی ہے۔میں پہلی دفعہ جلسے میں شامل ہوا ہوں۔جلسے کے مقدس خیالات اور پاکیزہ ماحول نے روحانی طور پر میری بہت مدد کی ہے۔ہم محبت، اخلاقیات اور اصولوں پر عمل پیرا ہو کر مل جل کر رہ سکتے ہیں۔پھر جلسے کے کارکنان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جلسے میں کام کرنے والے رضاکار ٹائلٹ صاف کر رہے تھے ، پلیٹیں دھو رہے تھے ، چھوٹے بچے پانی پلا رہے تھے۔یہ سب کچھ جذبہ ایثار کے بغیر ممکن نہیں۔دوسروں کی خدمت کرنے کا جذبہ غیر معمولی ہے۔پھر کہتے ہیں میں مسجد فضل بھی گیا۔چھوٹی سی مسجد ہے، ابتدائی مسجد ہے۔اس میں کشش تھی اور سادگی بھی، اس کی ایک خوبصورتی تھی۔پھر بیعت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اخلاص، وفا اور اطاعت کی ایک زنجیر جو دنیا کے لیے نمونہ ہے اور لوگ خلیفہ کی آواز کو سمجھ نہیں رہے۔آج کی دنیا مادیت کے پیچھے دوڑ رہی ہے لیکن اس مادہ پرستی کا نقصان بھی انسان کو ہی ہو رہا ہے اور پھر میرے متعلق کہا کہ اپنے خطاب میں بہتر معاشرے قائم کرنے کا لائحہ عمل دیا ہے۔والدین کے حقوق ہیں۔بچوں کے حقوق ہیں اور جو آخری تقریر تھی اس میں یہ چیزیں تھیں ان لوگوں نے اس سے کافی اثر لیا ہے۔اکثر لوگوں نے یہی تبصرے کیے ہیں۔برکینا فاسو سے سایو بہ اور ر اگو صاحب ( Sayouba Quedraogo) ممبر پارلیمنٹ ہیں کہتے ہیں جلسہ بہت اچھا تھا۔ہر کام منظم تھا۔ہر کوئی متحرک تھا۔پوری دنیا سے آئے ہوئے چھوٹے بڑے مردوزن اسلام کے لیے ہر خدمت کے لیے تیار تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ آج اسلام احمدیت کے ذریعہ پھیل رہا ہے۔احمدی ایک دوسرے کی مدد کرتے اور دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔اور پھر انہوں نے میرے بارے میں یہ کہا کہ آپ نے ہمارے حکمرانوں کے لیے اور قیام امن کے لیے دعا کی، یہ ہمارے لیے سرمایہ ہے۔جلسے کے موقعے پر ہمارا بڑا اچھا استقبال کیا گیا اور پھر باقی تقاریر بھی بہت اعلیٰ تھیں۔