خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد 17 406 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 بھی وجہ سے وہ بھی دور ہوں گی۔پھر یہاں جو لوگ آئے ہیں وہ خالصہ اللہ آئے ہیں اور اسی سوچ کے ساتھ آنا چاہیے۔ان کے آنے کا ایک للہی مقصد ہے۔دینی اور علمی اور روحانی پیاس کو بجھانے کے لیے آئے ہیں یا اس کے حصول کے لیے آئے ہیں اور یہ مقصد جیسا کہ میں نے کہا یہی ہونا چاہیے۔تو پھر آپس کے تعلقات کو بھی ہر ایک کو بہتر کرنا چاہیے اور رنجشوں اور نفرتوں کو دور کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جلسے میں آکر اس مقصد کو پورا کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ " دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے۔" (آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351) پس اس محبت کے حصول کے لیے جلسے کے پروگرام میں خاص طور پر شامل ہوں اسے سنیں، غور کریں۔جلسے کے دوران بھی اور چلتے پھرتے بھی ذکر الہی کرتے رہیں اور نماز باجماعت خاص فکر اور توجہ سے ادا کریں اور نوافل اور تہجد پڑھنے کی طرف بھی توجہ دیں۔خاص طور پر جن کا یہاں قیام ہے وہ اس ماحول کو پاکیزہ تر کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔اپنی حالتوں میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کریں اور جو صبح سے لے کر شام تک آتے ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنے والے بنیں جو جلسے کا مقصد ہے اور وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں بڑھائی جائے۔اور یہ بہت بڑا کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سپر د فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ہمارے دلوں پر غالب آجائے۔اگر جلسے میں شامل ہونے والے اس مقصد کو سامنے رکھ کر اس کے حصول کی بھر پور کوشش کریں گے تو سمجھیں آپ نے اپنے مقصد کو پالیا، جلسے میں آنے کا مقصد پورا ہو گیا اور پھر رہائش اور کھانا تو ضمنی چیزیں بن جائیں گی۔اصل مقصد یہ ہو گا کہ ہم نے اپنی روحانی حالت کو بہتر سے بہتر کرنا ہے، اس کو ترقی دینی ہے۔اگر یہ حاصل ہو گیا تو جیسا کہ میں نے کہا جلسے پر آنے کے مقصد کو پالیا۔اسی طرح انتظامی لحاظ سے مہمان اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ عارضی اور وسیع انتظام میں بعض کمیاں رہ جاتی ہیں۔اگر کہیں ایسی صورت دیکھیں تو صرف نظر کریں۔کارکنوں کو تو میں نے کہا ہے کہ وہ کسی سختی کو اگر کسی کی طرف سے مظاہرہ ہو تو برداشت کریں لیکن مہمانوں کا بھی کام ہے، شامل ہونے والوں کا بھی کام ہے کہ کمزوریوں سے صرف نظر کریں اور اگر ایسی کمیاں دیکھیں تو کارکنوں کا ہاتھ بٹائیں۔میں نے دیکھا ہے بعض مہمان اگر ضرورت ہو تو بڑے شوق سے خود میزبان بن کر کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً غسل خانوں کی صفائی ہے۔اگر زیادہ رش ہو اور ڈیوٹی پر متعین کارکن پوری طرح صفائی کا انتظام نہ کر سکیں تو بعض مہمان خود ان ڈیوٹی والوں کے ساتھ یہ کام کرنے لگ جاتے ہیں اور یہی جذبہ ایک احمدی میں ہونا چاہیے اور یہی وہ حقیقی روح ہے جو آپس کے پرخلوص معاشرے کو قائم کرتی ہے۔مہمان صرف کارکنان کو آزمانے اور امتحان لینے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ اگر ضرورت ہو تو ہر شعبے میں جیسا کہ میں نے کہا مددگار بن جائیں۔اسی طرح پارکنگ وغیرہ میں بھی بعض دفعہ رش کی صورت میں ہنگامی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے