خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 405

خطبات مسرور جلد 17 405 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 اس کے بعد میں مہمانوں کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ایک بات تو پہلے میں نے کی کہ ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا سب کا فرض ہے ، مہمانوں کا بھی، میز بانوں کا بھی۔جہاں اسلام ہمیں مہمانوں کی عزت اور تکریم کا حکم دیتا ہے تو ساتھ ہی مہمانوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ تم زیادہ بوجھ میزبان پر نہ بنو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے ہاں زیادہ لمبا مہمان ٹھہر نا جو ہے اور گھر والے پر جو بوجھ بننا ہے وہ اسی طرح ہے جس طرح تم صدقہ لے رہے ہو۔ہر ایک کے حالات ایسے نہیں ہوتے کہ شروع سے آخر تک ایک جیسی مہمان نوازی کر سکے تو مہمان کو بھی حکم ہے کہ تم بھی گھر والوں کا خیال رکھو۔اگر زیادہ قیام ہے تو پھر اس طرح رہو جس طرح گھر والا رہتا ہے اور گھر والوں کی کام کاج میں بھی کوئی مدد کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کر دینی چاہیے ان ملکوں میں تو خاص طور پر۔عموما تولوگ کرتے ہیں اور یہی ایک خوبصورت معاشرے کے لیے ضروری ہے۔جہاں یہ احساس پید ا ہو جائے کہ دوسرا شخص ہم پر بوجھ ہے وہاں خلوص اور محبت میں کمی آجاتی ہے اور جب اس میں کمی آجائے تو پھر حالات پر سکون نہیں رہتے۔پس مہمان کو بھی یادرکھنا چاہیے کہ مہمان کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنے ذمہ جو فرائض ہیں ان کو ادا کرے۔اگر مہمان کا حق ہے کہ مہمان نوازی کی جائے تو میزبان کا بھی حق ہے کہ مہمان اس کا حق ادا کرے اور اس پر بوجھ نہ بنے۔مہمان کے اس حق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چند روز تک محدود کیا ہے۔یہاں انتظامیہ کو میں یہ بھی کہہ دوں کہ ہمارے جلسہ پر آئے ہوئے جو مہمان ہیں اگر ایک مہینہ بھی ٹھہرتے ہیں تو ہم نے ان کی مہمان نوازی کرنی ہے۔اس سے یہ نہ سمجھیں کہ تین یا چار دن کے بعد ہم نے مہمان نوازی ختم کر دینی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کاموں کے حوالے سے لنگر خانے کے قیام کو بھی اپنی شاخوں میں سے ایک شاخ قرار دیا ہے۔(صحيح البخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف۔۔۔الخ حدیث 6135) (ماخوذ از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 221) اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر میں آنے والوں کے ساتھ جب بھی وہ آئیں جلسے کے دنوں میں نہیں عام حالات میں بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔پھر ایک حکم حسین معاشرے کا جس پر مہمانوں کو خاص طور پر اس جلسے کے ماحول میں عمل کرنا چاہیے وہ ہے سلام کو رواج دینا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں جانے والوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی تھی کہ وہ سلام کو رواج دینے والے ہیں۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان لا يدكل الجنة۔۔الخ حديث 54) پھر آپ نے فرمایا کہ جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے تم ان کو سلام کرو۔(صحيح البخارى كتاب الايمان باب افشاء السلام من الاسلام حديث 28) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جلسے کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بیان فرمایا تھا کہ تا کہ لوگ جمع ہوں اور اس طرح جمع ہونے سے محبت کا رشتہ اور تعارف کا ذریعہ آپس میں بڑھے۔(ماخوذ از آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 352) پس سلام اس محبت اور تعارف کے ذریعہ کو بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔بھائی چارے اور تعارف کو بڑھانے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے اور اس کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ جن کی آپس کی رنجشیں ہیں کسی