خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 404

خطبات مسرور جلد 17 404 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 مہمان نوازی کرتے ہیں اور یہی ہمیں کرنی چاہیے۔باوجود جماعتی سہولت کے بعض لوگ خود مہمان نوازی کرنا چاہتے ہیں۔کارکنان جو ڈیوٹی پر ہیں، کسی بھی خدمت پر مامور ہیں انہیں چاہیے کہ ان میں سے بعض نہیں بلکہ ہر ایک سو فیصد قربانی کے جذبے سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمان نوازی کرے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اب بھوک کی قربانی تو ہم سے نہیں مانگی جارہی۔اس وقت جو قربانی ہے اور کارکنان جو قربانی کرتے ہیں وہ وقت کی قربانی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جذبات کی قربانی بھی مانگی جاتی ہے۔بعض دفعہ مہمان نامناسب رویہ دکھا دیتے ہیں تو اس حالت میں جذبات کی قربانی کرنی پڑتی ہے ، صبر کرنا پڑتا ہے ، خاموش ہونا پڑتا ہے۔اس لیے خاموش ہونا پڑتا ہے کہ ہمیں مہمانوں پر حسن ظنی ہے کہ یہ لوگ نیک نیتی سے دینی اور روحانی پیاس بجھانے کے لیے آئے ہیں۔شاید کسی غلط فہمی کی وجہ سے انہوں نے زیادتی کا رویہ دکھایا ہو اس لیے ہم معذرت کر کے چاہے اپنی غلطی نہ بھی ہو ان کا کام کر دیتے ہیں اور یہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو اس زمانے میں ہمیں مہمانوں کے لیے دکھانے چاہئیں اور جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے ایسے بہت سے واقعات ہیں جن سے آپ کی مہمانوں کی دل داری اور مہمان نوازی کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایک دفعہ جب دور دراز کے ایک علاقے سے آئے ہوئے مہمان لنگر خانے کے کارکنوں کے انکار کی وجہ سے کہ ہم آپ کا سامان نہیں اتاریں گے ناراض ہو کر واپس چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اس بات کا پتا چلا تو بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل تھا جیسے کوئی بہت ہی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہو جلدی جلدی ان کے پیچھے پیدل چلے گئے۔وہ لوگ ٹانگے پہ جارہے تھے۔بہر حال ان لوگوں نے جب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لا رہے ہیں۔ان کو آتے دیکھا تو ٹانگہ کھڑ اکر دیا اور ٹانگے سے اترے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے معذرت کی اور واپس چلنے کو کہا اور ان کا ٹانگہ واپس موڑا اور انہیں کہا کہ آپ ٹانگے پر بیٹھ جائیں اور میں آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلتا ہوں۔بہر حال مہمان بھی شرمندہ ہوئے اور ٹانگے پر نہ بیٹھے بلکہ پیدل ہی چلتے رہے۔آخر جب لوگ واپس لنگر خانے آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ان کا سامان اتار ناشروع کیا۔اس کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس پر وہ خدام جو پہلے ہی شرمندہ ہو رہے تھے فوری طور پر آگے بڑھے اور ان مہمانوں کا سامان اتارا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت تک وہاں موجو د رہے جب تک کہ ان کی رہائش اور کھانے کا تسلی بخش انتظام نہیں ہو گیا۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 56-57 روایت نمبر 1069) آپ نے اپنے کارکنوں کو ایک موقعے پر فرمایا کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوتے ہیں۔بعض کو تم پہچانتے ہو بعض کو نہیں۔اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاحترام جان کر ان کی تواضع اور خدمت کرو۔فرمایا تم پر میر احسن ظن ہے کہ مہمان کو آرام دیتے ہو۔پس یہ حسن ظن ہم نے آج بھی قائم رکھنا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 226)