خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد 17 403 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 پڑوسی کا بہت بڑا حق ہوتا ہے کہ اس کی عزت کی جائے اور اس کا خیال رکھا جائے۔یہاں جو اس جلسے میں شامل ہونے والے ہیں، آنے والے مہمان بھی، کام کرنے والے بھی اور مہمانوں کے لیے جو کارکنان کام کر رہے ہیں وہ سب ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں۔پس اس لحاظ سے مہمانوں کو بھی کام کرنے والوں کی عزت اور احترام کرنا چاہیے اور کارکنوں کو بھی مہمانوں کی عزت اور احترام کرنا چاہیے۔پھر آپس میں جو ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو وہ عزت و احترام سے پیش آئیں اور تیسری بات یہ بتائی کہ اپنے مہمان کا احترام کرو۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب الحث على اكرام الجار والضيف۔الخ حدیث 47) اب یہ خاص طور پر میز بانوں کے لیے ہے۔ایک حسین اور پر امن معاشرے کے قیام کے لیے یہ بنیاد ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے یہ حکم ہیں اور مومن کی یہ نشانی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب زیادہ مہمان آتے تھے تو صحابہ میں بانٹ دیا کرتے تھے اور پھر مہمانوں سے پوچھا بھی کرتے تھے کہ کیا تمہارے بھائیوں نے تمہاری مہمان نوازی اچھے طور پر کی اور پھر صحابہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ اور تربیت یافتہ تھے، آپ سے فیض پانے والے تھے وہ ایسی مہمان نوازی کرتے تھے کہ مہمان جواب دیا کرتے تھے کہ ہمیں ہمارے میز بانوں نے اپنے سے بہتر رکھا اور اپنے سے بہتر کھلایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 357 حدیث 15644 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی مہمان نوازی کے یہ طریق تھے۔گو وہ بھی دین سمجھنے کے لیے اور دین کا علم حاصل کرنے کے لیے آیا کرتے تھے اور یہاں جو آنے والے ہیں وہ بھی اسی مقصد کے لیے آرہے ہیں اور ہم اسی بات پر مقرر کیے گئے ہیں کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بلانے پر خالصۂ دینی جلسے میں شمولیت کے لیے آرہے ہیں ہم ان مہمانوں کی خاص طور پر مہمان نوازی کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کے وسائل میں بھی پہلے سے بہت زیادہ کشائش پیدا کر دی ہے اور جماعتی نظام کے تحت بھی مہمان نوازی ہوتی ہے بلکہ بعض گھروں میں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے لیے بھی گھر والوں کو اجازت ہے اور اس کا انتظام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری لنگر سے اپنے مہمانوں کے لیے کھانا لے جاسکتے ہیں، لے جانا چاہیں تو لے جائیں لیکن صحابہ کے حالات تو ایسے نہیں تھے کہ ان کے لیے کوئی مرکزی انتظام بھی ہوتا۔وہ بھی کوئی نہیں تھا اور ان کے ذاتی حالات بھی شروع میں اکثر کے ایسے نہیں تھے کہ ان کو کشائش ہو۔بلکہ ایسے واقعات ملتے ہیں کہ بچوں کو بھی بھو کا سُلا دیا، خود بھی میاں بیوی بھو کے رہے اور مہمان کو جو تھوڑا بہت کھانا تھا وہ کھلا دیا اور پھر ان کے اس فعل کو اللہ تعالیٰ نے بھی خوب سراہا اور ان کی اس بات پر خوش ہوا اور ایسا واقعہ ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاص واقعے کی اطلاع دی۔(صحيح البخارى كتاب المناقب الانصار باب قول الله ويؤثرون على انفسهم الخ حديث 3798) پس وہ لوگ جن کا اسوہ ہمیں اپنانے کا حکم ہے، قربانی کر کے مہمان نوازی کیا کرتے تھے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں بہت سے افراد ہیں جو قربانی کے جذبے سے