خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 25
خطبات مسرور جلد 17 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری2019 یہ نہیں کہ علم حاصل کر رہی ہیں بلکہ ہمیشہ عاجزی سے وقار عمل بھی کیا کرتی تھیں۔جماعتی کام بھی کیا کرتی تھیں۔اپنے ہاتھ سے۔مسجد کی صفائی کرنا، کھانا پکانا ان کے یہ کام تھے۔پھر کہتی ہیں کہ ہم نے ان کو ہمیشہ نمازیں پڑھتے دیکھا۔یہ اعلیٰ اخلاق کی باتیں ہیں۔بیماروں کی تیمار داری کرتے دیکھا۔چندوں کی ادائیگی ان کو کرتے دیکھا۔ہر وقت نیکی کی کوئی نہ کوئی تحریک لجنہ میں یہ کرتی رہتی تھیں۔لکھتی ہیں کہ مرحومہ کی ساری توجہ لجنہ کے آپس میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا کرنے میں مرکوز تھی جس کے لئے اپنی آخری عمر میں انہوں نے لجنہ کو مخاطب کر کے متعد د خطوط لکھے۔صدر لجنہ لکھتی ہیں کہ ایک آیت وہ بڑی دہرایا کرتی تھیں جو میں نے ان سے سنی ہے کہ انَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ۔(الصف: 5) کہتی ہیں یہ ہمیشہ دہراتی رہتی تھیں۔یعنی اللہ تعالیٰ یقیناً ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر قتال کرتے ہیں گویاوہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔صدر لجنہ نے لکھا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے امریکہ میں مسجد فنڈ کی بنیاد رکھی۔اسی طرح مسلم سٹوڈنٹس سکالر شپ فنڈ کا آغاز کیا۔ان کی صدارت میں سب سے پہلا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔اسی طرح نیشنل تبلیغ ڈے کا آغاز بھی انہوں نے کیا جس میں لجنہ قرآن کریم کے ہزاروں نسخے، تبلیغی لیف لٹس، تعارفی پمفلٹس ملک کی لائبریریوں میں بھجوایا کرتی تھیں۔انہوں نے لجنہ کا ایک میگزین بھی شروع کیا جس کا نام اس وقت کی جو پوری دنیا کی صدر لجنہ تھیں حضرت چھوٹی آپا مریم صدیقہ صاحبہ ، انہوں نے 'عائشہ (Ayesha) رکھا تھا۔انہوں نے ان سے نام رکھوایا۔انہوں نے The path of faith اور Our Duties کے نام سے لجنہ کا لائحہ عمل بھی شائع کیا۔ان کی تحریک پر امریکہ کی لجنہ ممبرات نے ڈنمارک میں بننے والی مسجد کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانی کی۔اسی طرح بالٹی مور ، پٹس برگ وغیرہ کے مشن ہاؤسز کی آرائش وغیرہ کے لئے بھی فنڈز مہیا کئے۔یہ کہتی ہیں کہ سسٹر عالیہ بتایا کرتی تھیں کہ چونکہ اس دور میں 98 فیصد لجنہ نئی نئی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئی تھیں اس لئے ہم شروع میں لجنہ کو صرف نمازیں ادا کرنے اور رمضان میں روزے رکھنے کی تلقین کرتے تھے۔اسی طرح فور احجاب پہننے کی بجائے پہلے کچھ سال تک صرف مناسب لباس کی طرف توجہ دلاتے تھے کہ اپنے لباس کو پہلے حیادار کرو پھر اگلاstep آئے گا کہ حجاب لو، پردہ کرو۔یہ نہیں ہے کہ آجکل کی طرح جو لجنہ میں شروع ہو گیا ہے کہ جو پردہ کرتی ہیں انہوں نے اپنے پر دے اتار دئے ہیں۔انہوں نے سٹیپ وائز (stepwise) لجنہ کو ایک سٹیج سے دوسری سٹیج میں لانے کے لئے کوشش کی، تربیت کی۔پھر سسٹر عالیہ نے تمام لجنہ ممبرات کو قرآن کریم ناظرہ سکھانے میں بہت کوشش کی۔روزانہ قرآن کریم پڑھانے کے لئے پروگرام بنائے۔اسی طرح جو لجنہ ناظرہ مکمل کر لیتی تھیں ان کو روزانہ تفسیر کا کچھ حصہ پڑھنے کی طرف توجہ دلائی جاتی۔عالیہ صاحبہ کی کوشش سے ناصرات کا سلیبس بھی بنایا گیا۔ناصرات میں دینی علوم سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔مرحومہ نے ممبرات میں قربانی کی روح پیدا کرنے میں بھر پور کر دار ادا کیا۔اسی طرح چندہ جات کا حساب بھی بڑے ماہرانہ طریقے پر منتظم رکھتی تھیں۔جب ان سے ایک دفعہ جماعت میں داخل ہونے کے بارے میں آنے والی مشکلات کے بارے میں پوچھا