خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد 17 402 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 کی توفیق مل رہی ہے۔اسی طرح کارکنات ہیں ان کو کام کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو احسن رنگ میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جس طرح کہ میں ہمیشہ کارکنوں کو کہا کر تاہوں کہ جس شوق اور جذبے سے آپ نے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے پیش کیا ہے۔آپ کا کام ہے کہ اس جذبے کو آخر وقت تک قائم رکھیں۔جلسے کے بعد بھی وائنڈ اپ(wind up) کا شعبہ ہو گا اور اس میں ایک ہفتہ تقریباً کام کرنا پڑتا ہے۔اور اس بات کا اظہار کہ آپ نے جذبے کو قائم رکھا ہے آپ لوگوں کے چہروں کی مسکراہٹوں اور مہمانوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے سے ہو گا۔پس کارکنان اور کار کنات جو اس جلسے کے مہمانوں کی خدمت پر مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں ان کو اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے وہ اس جلسے میں دو ہر اثواب کمار ہے ہیں اور برکات سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ایک جلسہ سالانہ میں شامل ہو کر اس جلسہ سالانہ کی جو برکات ہیں اس سے فیض پا کر اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر کے ان برکات کو حاصل کر رہے ہیں۔مہمان نوازی اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہے۔اتنی پسند ہے کہ اس کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی دو مرتبہ فرمایا ہے۔اگر مہمانوں کو کھانا پیش کرنا کوئی معمولی بات ہوتی تو مہمانوں کے آنے کے ذکر پر ہر دفعہ ان کو کھانا پیش کرنے کا ذکر نہ ہوتا۔اور پھر یہ کہ سلام ، دعا کے بعد جو پہلا کام کیا وہ فوری طور پر بھنا ہوا کچھڑا پیش کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمَا لَبِتَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيْنٍ (هود:70) پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا بڑی جلدی سے لے آیا۔اس زمانے میں جو خاطر ہو سکتی تھی وہ کی اور اپنے جانور ذبح کر کے انہیں مہمانوں کے سامنے پیش کرنا بھی بہت بڑی خاطر تھی اور وہاں فوری طور پر مہیا بھی ہو سکتی تھی۔اس وقت جو مہمان نوازی کا طریق تھا، اس کا جو اعلیٰ معیار تھا وہ دکھایا گیا۔آج کل کے حالات کے مطابق جو مہمان نوازی ہے وہ ہمیں کرنی چاہیے۔یہاں بھی مہمان کی ایسی ہی خاطر داری کرنی چاہیے۔یہ ضروری نہیں ہے کہ ضرور محنت سے کی جائے اور بڑی محنت سے بچھڑے تلاش کیے جائیں بلکہ جو آسانی سے اور جلد مہیا ہو سکے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔ان کو وہ آسانی سے اور جلد مہیا بھی ہو سکتا تھا اور اعلیٰ مہمان نوازی بھی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس بارے میں ہمارے سامنے ہے۔اگر کھجوریں میسر ہیں تو وہ پیش کر دیں۔اگر گوشت یا کوئی اور اچھا کھانا ہے تو وہ پیش کر دیا۔اگر بکری کا دودھ ہے تو وہ پیش کر دیا۔اگر اپنے پاس کچھ نہیں ہے تو صحابہ کو فرمایا کہ اس مہمان کو اپنے گھر لے جاؤ اور ان کی مہمان نوازی کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والوں کو جن تین باتوں کے کرنے کا فرمایا ہے وہ سب ایسی ہیں جو ایک دوسرے کے حقوق سے تعلق رکھتی ہیں ، معاشرے کو پر امن بنانے سے تعلق رکھتی ہیں۔پہلی بات یہ کہ اچھی بات کر دیا خاموش رہو۔فضول قسم کی باتیں کر کے بدامنی پیدا نہ کرو۔آپس میں رنجشیں پیدا نہ کرو۔ایک مومن لغو اور بیہودہ باتیں نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرو کہ