خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد 17 399 31 خطبه جمعه فرموده مورخه 02 اگست 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02/ اگست 2019ء بمطابق 102 ظہور 1398 ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی، آلٹن، ہمپشائر۔یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہمیں آج پھر جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کی توفیق عطا فرمارہا ہے۔گذشتہ ماہ جرمنی کا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔دنیا کی بڑی، مغربی ممالک کی جماعتوں میں سے کینیڈا کا جلسہ ہوا ( جو جرمنی کے جلسے کے دنوں میں ہی تھا) پھر گذشتہ ماہ امریکہ کا جلسہ سالانہ ہوا اور دنیا کے اور بھی بہت سارے ممالک میں جلسے ہوئے اور بڑی شان سے ہم ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کے وعدے پورے ہوتے دیکھتے ہیں۔تاہم یو کے کے جلسہ سالانہ کی اپنی ایک حیثیت اس لحاظ سے بن چکی ہے کہ دنیا کی نظر خاص طور پر اس طرف رہتی ہے، اپنوں کی بھی، غیروں کی بھی اور ہر ایک لحاظ سے اس جلسے کو بین الا قوامی جلسے کی حیثیت دی جانے لگی ہے۔اور یہ جلسہ صرف اب یو کے کا جلسہ نہیں رہا گو کہ جیسا کہ میں نے جرمنی کے جلسے کے بارے میں بھی کہا تھا کہ اب جرمنی کا جلسہ بھی بین الا قوامی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔بہت سے ملکوں کی وہاں بھی نمائندگی تھی اور حاضری کے لحاظ سے بھی شاید جر منی کے جلسے کی حاضری یہاں سے زیادہ ہو ، لیکن پھر بھی مرکزی جلسہ یو کے کا ہی ہے اور یہاں شمولیت کی باہر کے لوگوں کی کوشش زیادہ ہوتی ہے کیونکہ خلافت کا مرکز یہاں ہے۔پس اس لحاظ سے دنیا کے مختلف ممالک سے اپنے بھی اور غیر بھی یوکے کے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لحاظ سے یہاں جلسے کے کارکنان کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے اور پھر یہاں حدیقۃ المہدی میں جو یہ عارضی شہر بنایا گیا ہے اس کے انتظامات بھی خاص توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔پس اس لحاظ سے جیسا کہ میں کارکنوں کو ان کی ڈیوٹیوں اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلایا کرتا ہوں تو اس وقت میں اس حوالے سے پہلے بات کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے میں رہنے والے احمدی بوڑھے ، جوان، بچے، عور تیں ، لڑکیاں گذشتہ 35 سال سے جب سے کہ خلافت کا مرکز یہاں منتقل ہوا اور جلسوں کا انعقاد خلیفہ وقت کی موجودگی میں ہو ا جلسے کے انتظامات کر رہے ہیں اور ڈیوٹیاں بڑی خوش دلی سے دے رہے ہیں۔گو کہ جلسہ سالانہ کی تاریخ یو کے کی بھی بہت پرانی ہے لیکن اس وقت کے جلسے تو اب شاید یہاں کے ایک حلقے کی ماہانہ میٹنگ سے بھی تعداد کے لحاظ سے کم ہوتے ہوں گے۔اس لیے میں نے گذشتہ 35 سالہ تاریخ کا حوالہ دیا ہے جو خلافتِ احمدیہ کے مرکز کی یو کے میں جلسوں کی تاریخ ہے۔