خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد 17 397 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 کہ جب تک وہ ہر بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیں ہر گز ایماندار نہیں ہوں گے۔الاصابة، اسد الغابۃ اور صحیح بخاری کی شرح ارشاد الساری میں یہ لکھا ہے کہ انصار کے جس شخص کی حضرت زبیر سے تکرار ہوئی وہ حضرت محمید انصاری تھے جو غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر العسقلاني، جلد2 صفحه 112 ، حمید الانصاری، دارالکتب العلمیه بیروت 2005ء) (اسدالغابه فى معرفة الصحابه لا بن اثير جلد2 صفحه 76 ، حمید الانصاری، دار الکتب العلميه بیروت 2008ء) (ارشاد السارى لشرح صـ البخاری ، کتاب الصلح باب اذا اشار الامام بالصلح۔۔۔۔۔۔حديث نمبر 2708، جلد 5 صفحه 140 ، دارالفکر بیروت 2010ء) بہر حال بعض دفعہ شیطان چپکے سے حملہ کر دیتا ہے لیکن ان بدری صحابہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی بخشش کی گواہی دی اور اعلان کیا ہوا ہے۔حضرت عمرو بن معاذ بن نعمان اوسی ایک صحابی تھے۔حضرت عمر ڈ کے والد کا نام معاذ بن نُعمان اور ان کی والدہ کا نام کبشہ بنت رافع تھا۔حضرت عمر و بن مُعاذ انصاری اشهَلی قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ کے بھائی ہیں۔انصار کے قبیلہ بنو عبد الا شکل سے تعلق رکھنے والوں کو آشکیلی بھی کہا جاتا تھا۔اس قبیلے سے ایک کثیر جماعت نے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے حضرت عمرو بن معاذ اور مکے سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے والے حضرت عمیر بن ابوو قاص کے در میان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔عمیر بن ابو وقاص، حضرت سعد بن ابو و قاص کے بھائی تھے۔حضرت عمرو بن معاذ اپنے بھائی حضرت سعد کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔حضرت عمرو بن معاذ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔انہیں ضِرار بن خطاب نے شہید کیا۔ضِرار بن خطاب نے جب حضرت عمرو بن معاذ کو نیزہ گھونپا جو ان کے جسم کے آر پار ہو گیا تو ان سے بطور استہزاء کہا کہ دیکھنا تم سے وہ شخص نہ چھوٹنے پائے جو خو زمین سے تمہاری شادی کرائے۔اس وقت ضرار نے بڑا طنز یہ لفظ استعمال کیا۔ضرار مسلمان نہیں ہوئے تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عمرو بن معاذ کی عمر شہادت کے وقت 32 سال تھی۔ضرار بن خطاب بن مِرد اس کے والد خطاب اپنے زمانے میں بنو فہر کے رئیس تھے۔اپنی قوم کے لیے ایک مسافر خانہ بنایا ہوا تھا۔ضرار جنگ فجار کے دن بنو محارب بن فہر کے سردار تھے۔قریش کے شہ سواروں ، بہادروں اور شیریں کلام شاعروں میں سے تھے۔یہ ان چار آدمیوں میں سے تھے جنہوں نے خندق پار کی تھی۔ابن عساکر دمشقی نے تاریخ دمشق میں ان کا نام ، بطور صحابی کے ان کا ذکر کیا ہے۔ضرار حضرت ابو عبیدہ کے ہمراہ فتوحات شام میں شریک تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ان کا اسلام لانا مشہور ہے اور ان کی نظم و نثر ان کے اسلام پر دلالت کرتی ہے۔" (اسد الغابه في معرفة الصحابه المجلد الرابع صفحه 260 عَمْرو بن مُعَاذ الأَنْصارِي “دارالكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) (اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الثانى صفحه 447-448 "ضرار بن خَطَّاب‘دارالفکر بيروت لبنان 2003ء) (الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحه 567