خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 17 وَ خَيْرُ مَا قَادَ إِلَى الرَّشَادِ 396 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 وَكُلُّ حَيْ فَإِلى نَفَادِ کہ اللہ کی طرف سوائے تقوی اور آخرت کے اور کچھ زاد راہ نہیں لے جاتا اور اللہ کی راہ میں جہاد پر ثابت قدم رہتا ہوں۔بے شک تقوی عمدہ چیز ہے اور سب سے بہتر ہدایت کی طرف رہنما ہے اور سب زندہ فنا ہونے والے ہیں۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جزء رابع صفحه 278 "عُمير بن حُمَام “ دار الكتب العلمية بيروت لبنان2008ء) اسلام میں انصار کی طرف سے سب سے پہلے شہید حضرت میر بن حمائم ہیں۔انہیں خالد بن اعلم نے شہید کیا یا بعض کے نزدیک سب سے پہلے انصاری شہید حضرت حارثہ بن قیس تھے۔دور وایتیں ہیں۔بہر حال یہ دو بدر کے شہید تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء ثالث صفحه 426 " عمير بن الحمام - دار الكتب العلمية بيروت 1990ء)(السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 222 باب ذكر مغازيه الا الله ، دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2002ء) حضرت محمید انصاری ایک صحابی تھے جن کا اب ذکر کروں گا۔حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ مدینے کی پتھریلی زمین کے ایک کاریزہ یعنی کھیتوں کو پانی دینے والی جو چھوٹی نالی ہوتی ہے اس کے متعلق ان کا ایک انصاری اسے جھگڑا ہو گیا جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ جھگڑا فیصلے کے رض لیے آیا۔وہ دونوں زمین کو اس کاریزہ سے پانی دیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سے فرمایا کہ زبیر تم پانی دو۔(پہلے ان کی زمین تھی) پھر اپنے پڑوسی کے لیے اسے چھوڑ دو۔پانی لگاؤ، پھر اس کا حصہ بھی اس کو دے دو اور آگے چھوڑ دو۔وہ انصاری اس بات پہ ناراض ہو گیا۔اس نے کہا یار سول اللہ ! اس لیے آپ ان کے حق میں یہ فیصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سے فرمایا کہ پہلے تو احسان کے رنگ میں میں نے بات کی تھی کہ تھوڑا سا پانی دے کے اس کو چھوڑو۔اب یہ حق والی بات آرہی ہے کہ تم پانی دو اور اسے روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک آ جائے۔اپنے کھیتوں کو پورا پانی لگاؤ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دلوایا حالانکہ رسول اللہ صلی لیلی یکم اس سے پہلے حضرت زبیر کو اپنی رائے کا اشارہ کر چکے تھے جس میں ان کے اور اس انصاری کے لیے بڑی گنجائش تھی۔جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو صاف اور صحیح فیصلہ دے کر ان کا پورا حق دلا دیا۔عروہ نے کہا کہ حضرت زبیر کہتے تھے کہ بخدا میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء: 66) کہ تیرے رب کی ہی قسم ہے ہر گز ہر گز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ بنائیں جو ان کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔پوری آیت بھی میں بتا دیتا ہوں اس طرح ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًاءَنَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( النساء: 66) کہ تیرے رب کی قسم ہے