خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد 17 395 کیا تھا اور ایک دوسرے قول کے مطابق قاتل کا نام طعیمہ بن عَدِتی تھا۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 (الطبقات الكبرى لابن سعد جز 3 صفحه 275 یزید بن حارث دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)(الاصابة في تمييز الصحابة جزء 6 صفحه 511 يزيد بن حارث دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 5 صفحه 448-449 يزيد بن حارث دار الكتب العلمية بيروت 2006ء) السيرة النبوية لابن هشام صفحه 461 من حضر بدراً من المسلمين من بنى زهره دارالکتب العلمية بيروت 2001ء) (الروض الانف جلد 5 صفحه 299 من استشهد من المسلمين يوم بدر۔۔۔۔۔۔۔۔بحواله المكتبة الشاملة) الطبقات الكبرى لابن سعد جز 3 صفحه 124 ، ذوالیدین دار احیاء التراث العربي بيروت 1990ء) حضرت یزید بن حارث نے جنگ بدر کے روز اپنے ہاتھ میں کھجوریں پکڑی ہوئی تھیں۔انہوں نے وہ پھینک کر لڑائی شروع کی اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔(الاصابة في تمييز الصحابة جزء 6 صفحه 511 يزيد بن حارث دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عمیر بن حمام ہے۔حضرت عمیر بن حمائم کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ کے خاندان بنو حرام بن کعب سے تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 476 من استشهد من المسلمين يوم بدر دارالكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء) حضرت عمیر کے والد کا نام حمام بن جموح اور والدہ کا نام تو از بنتِ عامر تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء ثالث صفحه 426 عمير بن الحمام دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2012ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمیر بن تمام، حضرت عُبيدة بن حَارِث مطلبی کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی جنہوں نے مکے سے مدینہ ہجرت کی۔یہ دونوں بدر کے دن شہید ہونے والوں میں شامل تھے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جزءرابع صفحه 278 عمير بن الحمام دارالکتب العلمية بيروت لبنان2008ء) غزوہ بدر کے موقعے پر جب مشرک قریب آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جنت کے لیے آگے بڑھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت میر بن محمائم نے عرض کیا یار سول اللہ ! وہ جنت جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔کیا آپ یہ فرمارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر انہوں نے کہا بغ یخ الیعنی واہ واہ اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بخ بخ کیوں کہ رہے ہو، کس وجہ سے کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! خدا کی قسم میں صرف اس خواہش کی وجہ سے کہ رہاہوں کہ میں جنت کے باشندوں میں سے ہو جاؤں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کے باشندوں میں سے ہو۔حضرت میر بن محمائم نے اپنی ترکش سے کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگے۔پھر آپ نے فرمایا اگر میں اپنی یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہے۔راوی کہتے ہیں پھر آپ نے وہ کھجوریں جو آپ کے پاس تھیں پھینک دیں اور کفار سے یہاں تک لڑے کہ شہید ہوگئے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب ثبوت الجنة للشهيد حدیث نمبر 3506 ترجمہ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن جلد 10 صفحه 102 تا 104) غزوہ بدر کے موقع پر حضرت میر بن حمام یہ رجزیہ شعر پڑھ رہے تھے کہ رَكْضًا إِلَى اللَّهِ بِغَيْرِ زَادِ وَالصَّبْرَ فِي اللَّهِ عَلَى الْجِهَادِ إِلَّا التَّقَى وَ عَمَلَ الْمَعَادِ إِنَّ التَّقَى مِنْ أَعْظَمِ السَّدَادِ