خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد 17 394 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 حضرت عبد اللہ بن سہیل کے والد حضرت سہیل بن عمر ومکہ میں حضرت ابو بکر سے ملنے آئے تب حضرت ابو بکر نے ان سے ان کے بیٹے عبد اللہ کی تعزیت کی۔اس پر حضرت سہیل نے کہا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید اپنے اہل میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا تو میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میرابیٹا مجھ سے قبل کسی اور سے آغاز نہ کرے گا یعنی میں جب مروں تو وہ میری بخشش کی سفارش کرے۔اسی طرح دوسری رائے کے مطابق حضرت عبد اللہ بحرین کے علاقہ جواثاء میں 88 سال کی عمر میں شہید ہوئے تھے۔جواناء بحرین میں عبد القیس کا قلعہ ہے جس کو علاء بن حضرمی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں 12 / ہجری میں فتح کیا تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 216-217 عبدالله بن سهيل، دار احياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء)(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 4 صفحه 107 عبد الله بن سُهَيْل ، مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء)(اسد الغابة في معرفة الصحابة الجزء الثالث صفحه 272 عَبْد الله بن سُهَيْل ، مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) (اسد الغابة في معرفة الصحابة الجزء الثاني صفحه 585 سُهَيْل بن عمرو ،قرشی، مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت لبنان 2008ء) (مـ البلدان جلد 2 صفحه 84 دار احیاء التراث العربي بيروت) بہر حال یہ دوروایتیں ہیں۔حضرت یزید بن حارث صحابی ہیں جن کا اب ذکر ہو گا۔حضرت یزید بن حارث کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو اخمر بن حارثہ سے تھا۔حضرت یزید کے والد کا نام حارث بن قیس اور والدہ کا نام فسخم تھا جو قبیلہ قین بن جنسر سے تعلق رکھتی تھیں۔قین یمن میں قضاعہ کا ایک قبیلہ تھا۔حضرت یزید اپنی والدہ کی نسبت سے یزید فُسحم اور یزید بن فُسحم کے نام سے بھی پکارے جاتے تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام باب الانصار و من معهم، من بنى احمر صفحه 467 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) ( الطبقات الكبرى لابن سعد جز 3 صفحه 275 يزيد بن حارث دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء)(الانساب للسمعانی جلد 10 صفحه 545 حاشیه از المكتبه الشامله) حضرت یزید بن حارث کے ایک بھائی عبد اللہ بن فُسحم بھی تھے۔ان کا نام 'ذوالشمالین ، بھی تھا۔حضرت عمیر بن عبد عمر و ذوالشمالین کے بارے میں ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ انہیں ذوالشمالین اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ یہ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام کرتے تھے۔ذوالیدین کے لقب سے بھی یہ مشہور تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے تھے۔اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے تھے اس لیے انہیں ذوالیدین بھی کہا جاتا تھا۔ان کا نام عمیر بن عبد عمر و خُختراعی تھا۔جب وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت یزید بن حارث کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔عمیر بن عبد عمرو کا یہ ذکر یا ذو الشمالین کا یہ ذکر اس لیے ہوا کہ ان کی مؤاخات یزید بن حارث کے ساتھ ہوئی تھی۔حضرت یزید اور حضرت ذوالشمالین دونوں کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اور دونوں نے ہی اسی جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔نوفل بن مُعَاوِیہ دیلی نے حضرت یزید کو شہید