خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 393
خطبات مسرور جلد 17 393 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 حضرت مریج بن عمرو کی وفات پچاس ہجری میں حضرت امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 53 "مدلاج بن عمرو - دار احياء التراث العربي بيروت لبنان 1996ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عبد اللہ بن سہیل ہے۔حضرت عبد اللہ کے والد کانام سہیل بن عمر و اور والدہ کا نام فاختہ بنت عامر تھا۔ان کے بھائی کا نام ابو جندل تھا۔حضرت عبد اللہ اپنے بھائی ابو جندل سے عمر میں بڑے تھے۔حضرت عبد اللہ کی کنیت ابو سہیل تھی۔حضرت عبد اللہ بن سہیل کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر بن لُوٹی سے تھا۔تاریخ کی جو کتاب ہے اس میں ابن اسحاق نے مہاجرین حبشہ ثانیہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔جب حضرت عبد اللہ بن سہیل حبشہ سے لوٹے تو ان کے والد نے انہیں پکڑ کر ان کے دین سے ہٹا دیا یعنی زبر دستی کی ان پہ۔حضرت عبد اللہ بن سہیل نے رجوع کا اظہار کیا اور آپ مشرکین کے ہمراہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بدر کی طرف روانہ ہوئے یعنی انہوں نے باپ کو کہا کہ ٹھیک ہے میں اس دین سے واپس آتا ہوں، اسلام سے توبہ کرتا ہوں۔کہہ تو یہ دیا لیکن دل میں تسلی نہیں تھی۔بہر حال مشرکین کے ساتھ بدر کی جنگ کے لیے آگئے۔حضرت عبد اللہ اپنے والد سہیل بن عمرو کے ساتھ ان کے نفقہ اور انہی کی سواری میں سوار تھے۔ان کے والد کو کسی قسم کا شک نہ تھا کہ اس نے اپنے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے یعنی اسلام چھوڑ کے واپس آگیا ہے۔جب بدر کے مقام پر مسلمان اور مشرکین مقابلہ کے لیے آمنے سامنے ہوئے اور دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو حضرت عبد اللہ بن سہیل مسلمانوں کی طرف پلٹ آئے اور لڑائی سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔یوں آپؐ بحالت اسلام غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔حضرت عبد اللہ کے ایسا کرنے کی وجہ سے ان کے والد سہیل بن عمرو کو شدید غصہ آیا۔حضرت عبد اللہ بن سہیل بدر، احد ، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔حضرت عبد اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے واسطے امان لی یعنی کہ ان کو معاف کر دیں۔پناہ میں لے لیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ میرے والد کو امان دیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ وہ اللہ کی امان کی وجہ سے امن میں ہے۔ٹھیک ہے اسے چاہیے کہ وہ باہر آ جائے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد احباب سے فرمایا جو شخص سہیل بن عمرو کو دیکھے تو اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھے۔میری زندگی کی قسم ہے کہ یقینا سہیل عقل مند اور شریف آدمی ہے اور شہنیل جیسا شخص اسلام سے ناواقف نہیں رہ سکتاکہ حضرت عبد اللہ بن سہیل اٹھ کر اپنے والد کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے آگاہ کیا۔سہیل نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ بڑھاپے اور بچپن میں نیکو کار تھے۔یوں حضرت عبد اللہ کے والد سہیل نے اس موقعے پر اسلام قبول کر لیا۔حضرت سہیل امان والے واقعہ کے بعد کہتے تھے کہ اللہ نے اسلام میں میرے بیٹے کے لیے بہت زیادہ بھلائی رکھ دی ہے۔حضرت عبد اللہ جنگ یمامہ میں بھی شریک ہوئے تھے اور اسی جنگ میں بارہ ہجری میں دورِ خلافت حضرت ابو بکر صدیق میں شہید ہوئے۔اس وقت ان کی عمر 38 سال تھی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے دورِ خلافت میں حج کے لیے مکہ تشریف لائے تو